421
رات کی آغوش سے مانوس اتنے ہو گئے
روشنی میں آئے تو ہم لوگ اندھے ہو گئے
آنگنوں میں دفن ہو کر رہ گئی ہیں خواہشیں
ہاتھ پیلے ہوتے ہوتے رنگ پیلے ہو گئے
بھیڑ میں گم ہو گئے ہم اپنی انگلی چھوڑ کر
منفرد ہونے کی دھن میں اوروں جیسے ہو گئے
زندہ رہنے کے لئے کچھ بے حسی درکار تھی
سوچتے رہنے سے بھی کچھ زخم گہرے ہو گئے
اس لئے محتاط ہوں اپنی نموداری سے میں
پھل تو پھل مجھ پیڑ کے پتے بھی میٹھے ہو گئے
اظہر فراغ
