396
چھاؤں میں بیٹھوں اجازت نہیں دیتا ہے مجھے
پیڑ اتنی بھی سہولت نہیں دیتا ہے مجھے
میرے حصے کی محبت نہیں دیتا ہے مجھے
اور سمجھتا ہے اذیت نہیں دیتا ہے مجھے
شعر کہنے کی سہولت نہیں دیتا ہے مجھے
ہجر اس درجہ بھی وحشت نہیں دیتا ہے مجھے
اک تو ہجرت کی اجازت نہیں دیتا ہے مجھے
دوسرا دل پہ حکومت نہیں دیتا ہے مجھے
کیوں نہیں آتی قیامت, نہیں دیتا ہے مجھے
زندہ رہنے کی وہ صورت نہیں دیتا ہے مجھے
جتنی درکار ہے وحشت نہیں دیتا ہے مجھے
درد بھی حسبِ ضرورت نہیں دیتا ہے مجھے
سفَرِ ہجر و مسافت نہیں دیتا ہے مجھے
ایسی ارشاد وہ قسمت نہیں دیتا ہے مجھے
ارشاد نیازی
