434
خواب اپنے مری آنکھوں کے حوالے کر کے
تو کہاں ہے مجھے نیندوں کے حوالے کر کے
میرا آنگن تو بجز تیرے مہکتا ہی نہیں!
بارہا دیکھا ہے پھولوں کے حوالے کر کے
ایک گمنام جزیرے میں اتر جاؤں گا
اپنی کشتی کبھی لہروں کے حوالے کر کے
کیسا سورج تھا کہ پھر لوٹ کے آیا ہی نہیں
چاند تارے مری راتوں کے حوالے کر کے
مجھ کو معلوم تھا اک روز چلا جائے گا!
وہ مری عمر کو یادوں کے حوالے کر کے
گھر کی ویرانی بدل ڈالی ہے رونق میں حسنؔ
صحن کا پیڑ پرندوں کے حوالے کر کے
حسن عباسی
