خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباظہران ممدانی
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ظہران ممدانی

از سائیٹ ایڈمن نومبر 5, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 5, 2025 0 تبصرے 76 مناظر
77

ظہران ممدانی: نیویارک کی سیاست میں ایک نئی صبح
دنیا کی سیاست میں کبھی کبھار ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو آنے والی صدیوں کے رویوں اور نظریات کا رخ بدل دیتے ہیں۔ نیویارک جیسے شہر میں، جہاں سرمایہ، طاقت اور اثرورسوخ کا کھیل صدیوں سے جاری ہے، وہاں ایک مسلمان، ترقی پسند اور نوجوان رہنما ظہران ممدانی کا میئر بن جانا محض ایک انتخابی جیت نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب کی علامت ہے۔

امریکہ کی تاریخ میں مسلمانوں کے لیے سیاست کا سفر ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ اسلاموفوبیا، شناختی تعصب اور میڈیا کی منفی پیشکش نے مسلمانوں کو سیاسی طور پر پیچھے رکھا۔ لیکن اس بار عوام نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ نیویارک کے ووٹرز نے مذہب نہیں، وژن کو چنا۔ ظہران ممدانی نے عوام کو یہ باور کرایا کہ قیادت کسی خاص طبقے کی میراث نہیں بلکہ ہر اس شخص کا حق ہے جو دیانت، انصاف اور خدمت پر یقین رکھتا ہو۔

بھارتی نژاد ظہران ممدانی نے سیاست کا آغاز نچلی سطح سے کیا۔ وہ محض وعدے نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کی سیاست خدمت سے عبارت تھی۔ گلیوں میں رہنے والوں سے لے کر اپارٹمنٹ کے کرایہ داروں تک، ہر طبقے کے درمیان جا کر ان کی بات سنتے اور ان کے مسائل کو اپنی زبان بناتے۔ یہی انداز ان کے لیے عوام کے دلوں تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔

انہوں نے انتخابی مہم میں وہ راستہ اختیار کیا جو آج کے زمانے میں بہت کم نظر آتا ہے۔ بڑے جلسوں اور دولت مند اسپانسرز کے بجائے، وہ عوامی پارکوں، کیفے، لائبریریوں اور اسکولوں میں چھوٹے چھوٹے اجتماع کرتے۔ سوشل میڈیا پر ان کا نعرہ "شہر سب کے لیے” مقبول ہوا اور یہی نعرہ ان کی مہم کی روح بن گیا۔

اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک جیسے بااثر چہروں نے ان کی مخالفت میں بیانات دیے۔ ٹرمپ نے انہیں "ریڈیکل مسلم” کہا جبکہ مسک نے طنزیہ انداز میں ان کے وژن کو "سیاسی خواب” قرار دیا۔ مگر عوام نے طاقت کے تمام تر شور کو مسترد کر کے اپنے دل کی آواز سنی۔ یہ فیصلہ صرف ایک شخص کے حق میں نہیں بلکہ اس سوچ کے حق میں تھا جو خدمت، مساوات اور انسان دوستی پر یقین رکھتی ہے۔

ممدانی کی کامیابی نے امریکی سیاست میں ایک نئی سمت پیدا کر دی ہے۔ یہ کامیابی اس بات کی علامت ہے کہ عوام اب سیاسی چالاکی نہیں بلکہ عملی دیانت چاہتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب امریکہ کے نوجوانوں کو یقین ہوا کہ اگر نیت صاف ہو تو نظام بدلا جا سکتا ہے۔ نائن الیون کے بعد سے امریکی معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف جو نفرت آمیز فضا قائم کی گئی تھی، وہ اس جیت کے بعد کمزور پڑ گئی ہے۔ یہ واقعہ اسلاموفوبیا کے بیانیے پر کاری ضرب ہے۔

نیویارک کے عوام نے مذہب یا نسل کے بجائے پالیسیوں کو ترجیح دی۔ ممدانی نے عوام سے وعدہ کیا کہ پبلک ٹرانسپورٹ مفت ہوگی، کرایے منجمد کیے جائیں گے، اور ہر شہری کو سستا رہائشی مکان فراہم کیا جائے گا۔ یہی وہ وعدے تھے جو نیویارک کے عام شہریوں کے دلوں میں امید جگانے لگے۔

چونتیس سالہ ظہران ممدانی کی جیت نے یہ بھی ثابت کیا کہ قیادت کا تعلق عمر سے نہیں بلکہ عزم سے ہوتا ہے۔ ان کی کامیابی نوجوان نسل کے لیے ایک حوصلہ ہے کہ اگر راستہ مشکل بھی ہو، مگر نیت خالص ہو تو دنیا کے سب سے بڑے شہر کی کنجی بھی ہاتھ آ سکتی ہے۔

ان کی جیت کا اثر صرف امریکہ تک محدود نہیں رہا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں، خصوصاً مغربی معاشروں میں بسنے والے نوجوانوں کے لیے یہ جیت امید کی ایک کرن بن گئی ہے۔ یہ ایک ایسا پیغام ہے جو کہتا ہے کہ جمہوریت میں حصہ لینا، اپنی آواز اٹھانا، اور اپنے حق کے لیے ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔

اب ظہران ممدانی کے سامنے اصل امتحان شروع ہوا ہے۔ نیویارک کا بجٹ، رہائشی بحران، اور سرمایہ دارانہ دباؤ ان کے لیے سخت آزمائش ہوں گے۔ مگر اگر ان کا اخلاص برقرار رہا، تو وہ واقعی اس شہر کو "سب کے لیے شہر” بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

امریکی اور عالمی میڈیا نے ان کی فتح کو "Progressive Wave” کا نام دیا ہے۔ گارڈین نے لکھا کہ "یہ جیت اس نسل کی ہے جو نعرے نہیں، عمل دیکھنا چاہتی ہے۔” ممدانی اب نہ صرف نیویارک بلکہ ترقی پسند سیاست کے عالمی استعارے بن چکے ہیں۔

آخر میں، یہ جیت ایک مسلمان کی نہیں بلکہ انسانیت، برابری اور اجتماعی شعور کی جیت ہے۔ یہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ تبدیلی ہمیشہ نیچے سے جنم لیتی ہے۔ جب عوام جاگ جاتے ہیں تو طاقتور طبقات کے بیانیے ریت کی دیوار بن جاتے ہیں۔ ظہران ممدانی کی فتح دراصل ایک نئی صبح کی آمد ہے ۔۔ وہ صبح جس میں نسل، مذہب اور رنگ نہیں بلکہ انسانیت کا نام روشن ہے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گزر گئے پلوں کو اب
  • کرب سے اذیت سے
  • پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس کا نظام
  • ذرا سی دیر ٹھہر کر سوال کرتے ہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ترا خواب آنکھوں کو پیغام دے
پچھلی پوسٹ
چکن چیز رول

متعلقہ پوسٹس

اکیچ بات ہے

جنوری 24, 2020

نیا سال، نیا عزم – نئے ارادے!

جنوری 1, 2026

چھٹیوں کے بغیر محبت

جنوری 27, 2025

گفتگو ایک سوکھی بیل کی ہے

نومبر 14, 2021

اس زمیں آفتاب سے باہر

جون 18, 2020

سکرین سے باہر کی دُنیا

مئی 5, 2026

کھوٹے سِکوں کا پاکستان

نومبر 19, 2019

جنگ کا خوف اور پاکستان کا مستقبل

مارچ 15, 2026

ذرا ہور اوپر

دسمبر 30, 2019

ایک دن میں قید۔۔۔حضرت اقبالؒ

نومبر 12, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جدائی

مئی 20, 2020

تیراہ،عارضی قربانی اور مستقل امن

جنوری 15, 2026

جہاں کارواں ٹھہرا تھا

مارچ 3, 2013
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں