103
اس زمیں آفتاب سے باہر
ایک دنیا ہے خواب سے باہر
ڈھونڈتا ہے مجھے حجاب میں وہ
اور میں ہوں حجاب سے باہر
گفتگو کر رہی ہے خاموشی
خامشی کے نصاب سے باہر
ایک پتّی تمہارے ہونٹوں پر
کھل رہی ہے گلاب سے باہر
مجھ میں اُتری ہوئی ہے شام کوئی
روز و شب کے حساب سے باہر
تجدید قیصر
