3
زمیں سے زیر ہوا ہوں نہ آسماں سے میں
بندھا ہوا ہوں مقدر کے بادباں سے میں
لپٹ کے روئے گا پندار بے کراں مجھ سے
پکارا جاؤں گا فہرست رفتگاں سے میں
مرے خدا کو ہی جب مجھ پہ اعتبار نہیں
نکل نہ جاؤں فرشتوں کے درمیاں سے میں
مرے لیے تھے سبھی سانپ باعث رحمت
وہ آستین سے نکلے تو آستاں سے میں
وصال و ہجر سے بڑھ کر بھی لاکھ غم ہیں مجھے
نکال دوں گا محبت کو داستاں سے میں
زمانے بھر کے عذابوں نے مجھ کو گھیر لیا
جدا ہوا ہوں جوں ہی شمسؔ اپنی ماں سے میں
شاہ دل شمس
