108
یہ کس ترنگ میں ہم نے مکان بیچ دیا
درخت کاٹ لئے سائبان بیچ دیا
دری لپیٹ کے رکھ دی بساط الٹ ڈالی
چراغ توڑ دئے شمع دان بیچ دیا
خزاں کے ہاتھ خزاں کے نیاز مندوں نے
نوائے موسمِ گل کا نشان بیچ دیا
اٹھا جو شور تو اہلِ ہوس نے گھبرا کر
زمین لیز پہ دے دی، کسان بیچ دیا
یہی ہے بھوک کا عالم تو دیکھنا اک دن
کہ ہم نے دھوپ بھرا آسمان بیچ دیا
احمد مشتاق
