100
وابستہ ہیں اس جہان سے ہم
آئے نہیں آسمان سے ہم
دکھ درد ہے ذکر و فکر اپنا
کہتے نہیں کچھ زبان سے ہم
اس جوشِ نمو سے لگ رہا ہے
اترے نہیں اس کے دھیان سے ہم
کمروں میں اجنبی مکیں تھے
کچھ کہہ نہ سکے مکان سے ہم
محفل تو جمی رہے گی مشتاق
اٹھ جائیں گے درمیان سے ہم
احمد مشتاق
