103
وہ عہد تم نے توڑ دیا جس پہ بیشمار
پچھلے پہر کے ڈوبتے تارے گواہ تھے
اب جو بھی کہہ رہے ہو بجا ہے درست ہے
ہم کج خیال و کج سخن و کج نگاہ تھے
با وصفِ احتیاط و بہ ایں تجرباتِ دہر
محسوس ہو رہا ہے کہ گم کردہ راہ تھے
لیکن ہے دل کو صبر ، کھلا ہے یہ جب سے راز
تم باعثِ گناہ نہیں تھے گناہ تھے
یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
ساتھ چل موجِ صبا ہو جیسے
لوگ یوں دیکھ کر ہنس دیتے ہیں
تو مجھے بھول گیا ہو جیسے
موت بھی آئی تو اس ناز کے ساتھ
مجھ پہ احسان کیا ہو جیسے
ایسے انجان بنے بیٹھے ہو
تم کو کچھ بھی نہ پتا ہو جیسے
ہچکیاں رات کو آتی ہی رہیں
تو نے پھر یاد کیا ہو جیسے
زندگی بیت رہی ہے دانش
اک بے جرم سزا ہو جیسے
احسان دانش
