103
ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا
ہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گا
جمے قدموں کے نیچے سے پھسلتی جائے گی ریت
بکھر جائے گی جب عمرِ رواں کیسا لگے گا
اِسی مٹی میں مل جائے گی پونجی عمر بھر کی
گرے گی جس گھڑی دیوارِ جاں کیسا لگے گا
بہت اترا رہے ہو دل کی بازی جیتنے پر
زیاں بعد از زیاں بعد از زیاں کیسا لگے گا
ابھی سے کیا بتائیں مرگِ مجنوں کی خبر پر
سلوکِ کوچۂ نا مہرباں کیسا لگے گا
افتخار عارف
