551
یہی مسئلہ تجھے ہر جگہ نظر آئے گا
جو نہیں ملے گا وہ جا بجا نظر آئے گا
کبھی جھانک تو کسی برگِ زرد کی آنکھ میں
کوئی آشنا تجھے دیکھتا نظر آئے گا
کبھی اپنا اصل بھی دیکھ آئنہ توڑ کر
کوئی کرچیوں میں بٹا ہوا نظر آئے گا
کہیں کائنات کے باغ میں گلِ نیلگوں
کہیں سرخ پھول گلاب سا نظر آئے گا
نظر آئے گی تجھے سات رنگ کی روشنی
کوئی راستا تجھے دودھیا نظر آئے گا
ہے تری تلاش میں ، تو ہے جس کی تلاش میں
مگر اس غبارِ سفر میں کیا نظر آئے گا
سعود عثمانی
