965
سدھارتھ
سدھارتھ کو یہی غم تھا
کہ برگد پیڑ ہے
اور اس کے نیچے اس کے سائے کے علاوہ
اور کچھ بھی اگ نہیں پاتا۔
اسے امید تھی
کہ کچھ نہ کچھ تو اگ ہی آئے گا
مگر
تھک ہار کر خود ہی اگا
اور اس قدر پھیلا
کہ اک اک شاخ اک اک دور کے سر پر مسلط تھی۔
سدھارتھ پیڑ نے
ہر اک صدی میں بیج پھینکے ہیں۔
جو ہر اس گھر میں اگتے ہیں
جہاں سوئے ہوئے بچے سکوں سے مسکراتے ہیں
وحید احمد
