364
پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیں
اب جو بھی کر رہا ہے یہ احسان تم نہیں
مجھ میں بدل رہا ہے جو اک عالم خیال
اس لمحۂ جنوں کے نگہبان تم نہیں
بجھتے ہوئے چراغ کی لو جس نے تیز کی
وہ اور ہی ہوا ہے مری جان تم نہیں
پھر یوں ہوا کہ جیسے گرہ کھل گئی کوئی
مشکل تو بس یہی تھی کہ آسان تم نہیں
تم نے سنی نہیں ہے صدائے شکست دل
ہم جھیلتے رہے ہیں یہ نقصان تم نہیں
تم سے تو بس نباہ کی صورت نکل پڑی
جس سے ہوئے تھے وعدہ و پیمان تم نہیں
خوش فہمیوں کی بات الگ ہے مگر یہ گھر
جس کے لیے سجا ہے وہ مہمان تم نہیں
یہ عالم ظہور ہے ہجرت زدہ سلیمؔ
ہم بھی دکھی ہیں صرف پریشان تم نہیں
سلیم کوثر
