101
کوئی کلی ہے نہ غنچہ نہ گل برائے صبا
چمن میں کانٹے ہیں دامن بچا کے آئے صبا
نہ اب طلسم بہاراں نہ اب فسون جمال
وہ لمحے خواب ہوئے خواب بھول جائے صبا
کبھی فضاؤں میں خوشبو اڑائے پھرتی تھی
مگر یہ دن کہ بہاروں میں خاک اڑائے صبا
کلی ہے مہر بہ لب پھول ہے گریباں چاک
اجل کی دھوپ ہے پھرتی ہے سائے سائے صبا
نہ کچھ نشاں کی صدا ہے نہ آہٹوں کے نشاں
چمن میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں نقش پائے صبا
گھٹن ہے ایسی کہ صرصر کو بھی ترستے ہیں
کسے پکاریں کہاں جائیں اے خدائے صبا
حریم غنچہ میں خوشبو سمٹ کے بیٹھی ہے
حجاب اٹھے جو صحن چمن میں آئے صبا
خبر نہیں مجھے کس سمت لے کے اڑ جائے
کئی دنوں سے مرے سر میں ہے ہوائے صبا
بھٹکتی پھرتی ہے صحرائے درد میں خاطرؔ
بچھڑ گیا ہو کوئی جیسے آشنائے صبا
خاطر غزنوی
