102
کسی سے دور جا پڑے کسی کے پاس ہو گئے
کنار کیپسین پہ ہم بہت اداس ہو گئے
ادھر کنار بحر تھا ادھر بلند گھاٹیاں
جنوں کی وحشتیں ہمیں لیے پھر ہیں کہاں کہاں
وہ رات ایک خواب تھی مگر عجیب خواب تھی
کتاب زندگی کا ایک لا جواب باب تھی
ادھر ادھر کی گفتگو زمانے بھر کی گفتگو
رہ دراز عشق کے کٹھن سفر کی گفتگو
دلوں کی آرزو زباں تک آن پلٹ گئی
اسی میں رات کٹ گئی اسی میں بات کٹ گئی
انھیں تو ہم نے پا لیا یہ اپنا آپ کھو گئے
کنار کیپسین پہ ہم بہت اداس ہو گئے
ابن انشاء
