481
خاک اڑتی ہے رات بھر مجھ میں
کون پھرتا ہے در بدر مجھ میں
مجھ کو خود میں جگہ نہیں ملتی
تو ہے موجود اس قدر مجھ میں
موسم گریہ ایک گزارش ہے
غم کے پکنے تلک ٹھہر مجھ میں
بے گھری اب مرا مقدر ہے
عشق نے کر لیا ہے گھر مجھ میں
آپ کا دھیان خون کے مانند
دوڑتا ہے ادھر ادھر مجھ میں
حوصلہ ہو تو بات بن جائے
حوصلہ ہی نہیں مگر مجھ میں
رحمان فارس
