101
جہان آرزو آواز ہی آواز ہوتا ہے
بڑی مشکل سے احساس شکست ساز ہوتا ہے
ہمیں کیا آپ انجام محبت سے ڈراتے ہیں
ہمارے خون سے ہر دور کا آغاز ہوتا ہے
قفس ہے دام ہے بھڑکی ہوئی ہے آتش گل بھی
اسی ماحول میں اندازۂ پرواز ہوتا ہے
پگھل جاتی ہیں زنجیریں سلگ اٹھتی ہیں دیواریں
لب خاموش میں وہ شعلۂ آواز ہوتا ہے
محبت کی حقیقت کھل گئی چاک گریباں سے
جنوں بھی ایک منزل میں زمانہ ساز ہوتا ہے
ہمیں پر منحصر ہے رونق بزم جہاں قابلؔ
کوئی نغمہ ہو اپنا ہی رہین ساز ہوتا ہے
قابل اجمیری
