102
جہاں دھواں تھا وہیں روشنی کے داغ بھی تھے
مرے مکان کے ملبے میں کچھ چراغ بھی تھے
ذرا سی دیر میں محفل کو کیا ہوا یا رب
ابھی تو شام بھی تھی مے بھی تھی ایاغ بھی تھے
زمین بیچ کے رہتے تھے آسمانوں پر
مرے بزرگوں میں وہ صاحب فراغ بھی تھے
خدا بھی دیکھ کے چپ تھا کہ میرے دامن میں
جہاں گناہ وہیں آنسوؤں کے داغ بھی تھے
جو ہم جلے تو دل و جاں چمک اٹھے قیصرؔ
بہت دنوں سے یہ ویرانے بے چراغ بھی تھے
قیصرالجعفری
