103
جب ترے ساتھ ساتھ ہوتی تھی
پلو میں کائنات ہوتی تھی
میرا چہرہ دمکنے لگتا تھا
جب کہیں تیری بات ہوتی تھی
یار شامل مخالفین میں تھے
اس لیے تجھ کو مات ہوتی تھی
جیسے ہی اختلاف بڑھتے تھے
اک نئی واردات ہوتی تھی
عکس اس کا تھا پھول کلیوں میں
چاند میں اس کی ذات ہوتی تھی
اس کی اتری مہکتی شال مجھے
مژدۂ التفات ہوتی تھی
جس سیہ رات وہ نہ دِکھتا تھا
تب اماوس کی رات ہوتی تھی
فارحہ نوید
