496
بچھڑ گیا تھا کوئی خواب دل نشیں مجھ سے
بہت دنوں مری آنکھیں جدا رہیں مجھ سے
میں سانس تک نہیں لیتا پرائی خوشبو میں
جھجھک رہی ہے یوں ہی شاخ یاسمیں مجھ سے
مرے گناہ کی مجھ کو سزا نہیں دیتا
مرا خدا کہیں ناراض تو نہیں مجھ سے
یہ شاہکار کسی ضد کا شاخسانہ ہے
الجھ رہا تھا بہت نقش اولیں مجھ سے
میں تخت پر ہوں مگر یوں تو خاک زادہ ہی
گریز کرتے ہیں کیوں بوریا نشیں مجھ سے
اجڑ اجڑ کے بسے ہیں مرے در و دیوار
بچھڑ بچھڑ کے ملے ہیں مرے مکیں مجھ سے
بکھر رہی ہے تپ انتقام سے مری خاک
گزر رہی ہے کوئی موج آتشیں مجھ سے
محال ہے کہ تماشا تمام ہو شاہدؔ
تماش بین سے میں خوش تماش بیں مجھ سے
