100
اندھیرے راستوں میں یوں تری آنکھیں چمکتی ہیں
خدا کی برکتیں جیسے پہاڑوں پر اترتی ہیں
محبت کرنے والے جب کھبی آنسو بہاتے ہیں
دلوں کے آئینے دھوتی ہوئی پلکیں سنورتی ہیں
دھواں سی بدلیوں کو دیکھ کر اکثر وہ کہتی تھی
ہمیشہ چاندنی میں بے وفا روحیں بھٹکتی ہیں
ہمارے زندگی میں پھول بن کر کوئی آیا تھا
اسی کی یاد میں اب تک یہ تحریریں مہکتی ہیں
مجھے لگتا ہے دل کھنچ کر چلا آیا ہے ہاتھوں پر
تجھے لکھوں تو میری انگلیاں ایسی دھڑکتی ہیں
بشیر بدر
