522
جب میں ہنستی ہوں تو میرا قہقہہ باتیں کرے
آج کل مجھ سے تو میرا آئینہ باتیں کرے
میں نے سوچا کس طرح تنہا کٹے گا یہ سفر
گھر سے نکلی ہوں تو مجھ سے راستہ باتیں کرے
میں الگ رستے کا کرتی ہوں ہمیشہ انتخاب
کس لئے پھر آج سارا قافلہ باتیں کرے
میں نے دل کی بات مانی شور سا اُٹھنے لگا
من گھڑت رسموں کا ہر اک ضابطہ باتیں کرے
بے دھیانی میں جو پھنکی کنکری تالاب میں
چوٹ پانی کو لگی ہر دائرہ باتیں کرے
میں نے خطروں میں گزارے زندگی کے روز و شب
میرے فکر و عمل میں وہ تجربہ باتیں کرے
قلم اور قرطاس سے تحمینہ رکھا واسطہ
شعر لکھوں تو غزل کا قافیہ باتیں کرے
تہمینہ مرزا
