444
تمہارے پاس بھی دنیا میں کیا نہیں دنیا
بس ایک جذبہء مہر و وفا نہیں دنیا
ترے رویّے پہ نالاں تھے میر و غالب بھی
ترا سلوک پہ ہم ہی خفا نہیں دنیا
ہمارے ساتھ کہاں تک چلیں گے مہرو وفا
ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی بچا نہیں دنیا
ہمارے بخت میں لکھی تھی نارسائی ہی
ہماری ہار میں تیری خطا نہیں دنیا
ترا خلوص بھی ہم کو بچا سکے گا کہاں
ہمارے ساتھ کسی کی دعا نہیں دنیا
صدیق صائب
