332
یہ وحشت ناک منظر کی جھلک محسوس ہوتی ہے
جو ویراں شہر کی وسطی سڑک محسوس ہوتی ہے
دکھائی دے رہی ہو جیسے کوئی دھول گھوڑوں کی
سپہ سالار کو تازہ کمک محسوس ہوتی ہے
کسی بھی یار نے پردیس جانے سے نہیں روکا
ابھی تک میرے دل میں یہ کسک محسوس ہوتی ہے
میں اپنے گھر کے آنگن میں سماعت چھوڑ آیا ہوں
مرے کانوں میں چوڑی کی کھنک محسوس ہوتی ہے
بھیانک زلزلے نے بستیوں کو خاک میں بدلا
مجھے اب تک زمیں کو وہ دھمک محسوس ہوتی ہے
میرے کاندے پہ رکھ کر ہاتھ ماں نے تھپتھپایا تھا
بدن میں آج بھی اُس کی تھپک محسوس ہوتی ہے
یہ دل کی بے قراری بے سبب ہوتی نہیں صابرؔ
کسی طوفان کی پھرسے بھنک محسوس ہوتی ہے
ایوب صابر
