116
اب جانا ہے اب جانا اب جانا زمانے کو
اب چھوڑ دیا ہیں میں نے چاہت کے ترانے کو
سپنوں کے سہارے پر چاہا کہ ملوں تجھ سے
سکھ سیج کے سپنے میں یہ بھول ہوئی مجھ سے
سچائی سمجھ بیٹھا جینے کے بہانے کو
جینا ہی مرا کیا ہے جینے کا بہانہ ہے
ہر سانس کے پہلو میں اشکوں کا خزانہ ہے
ہنستا ہوں تو ہنستا ہوں غیروں کے دکھانے کو
سب عمر مری یونہی گذرے گی تو پھر کیا ہے
غم بڑھ کے نہ آئے گا اس غم سے جو دیکھا ہے
کافی ہے یہی دل کا ہر درد مٹانے کو
جوں توں میں چلاؤں گا ٹوٹی ہوئی کشتی کو
اور چاہے زمانے کا ہر تیر ہی زہری ہو
چپ چاپ سہوں گا میں ہر ایک نشانے کو
اب جان لیا میں نے اب جانا زمانے کو
میرا جؔی ثناء اللہ
