376
دیوار کے پہلو سے بجھے دیپ اٹھا دیں
یا دن کی منڈیروں پہ بھی اب گھات لگا دیں
یا جسم کی جنت سے پرے ہجر ہرا ہو
یا یونہی دلیلوں کی فصیلوں کو گرا دیں
آزار اٹھائیں ترے ہونٹوں کی پھڑک سے
اور کھال کھرچتی ہوئی وحشت کو صدا دیں
آسودہ رہیں رنگ مرے اشک سے مل کر
بس میری ہتھیلی پہ کوئی دشت بنا دیں
بھر جائے تسلی کی تمناؤں میں گریہ
کچھ دیر اگر خواب کے ہم زخم چھپا دیں
ارشاد نیازی
