353
درد جب صبر کے دھاروں سے نکل آئے تھے
پھر منافق مرے یاروں سے نکل آئے تھے
لاش پانی میں پڑی دیکھ کے تنہا میری
اشک دریا کے کناروں سے نکل آئے تھے
دیکھ کے آنکھ مچولی کو چمن میں اس دن
دفعتاً پھول بہاروں سے نکل آئے تھے
میں نے آواز لگائی تھی محبت لے لو
لوگ عجلت میں قطا روں سے نکل آئے تھے
میرے آقاﷺ کی رسالت کی گواہی کے لیے
معجزے چاند ستاروں سے نکل آئے تھے
