خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابات کرکے دیکھتے ہیں
آپکا اردو بابااردو تحاریرتحقیق و تنقیدمجید احمد جائیمقالات و مضامین

بات کرکے دیکھتے ہیں

بات کرکے دیکھتے ہیں تبصرہ نگار:مجیداحمد جائی

از مجید احمد جنوری 31, 2020
از مجید احمد جنوری 31, 2020 0 تبصرے 676 مناظر
677

بات کرکے دیکھتے ہیں

’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘جوں ہی یہ جملہ آنکھوں کی اسکرین اور دل ودماغ کے نہہ خانوں سے اُبھرتا ہے تو پہلا تاثر یہ قائم ہوتا ہے کہ ایک شخص جس کو تیسرے شخص کے بارے میں بڑھا چڑھا کر بتایا گیا ہے یا اُس کا حلیہ ،کردار ،رعب ،دبدبہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ پہلا شخص اپنی تمام ہمت ،جوانمردی اور جذبوں کے سمندر سے لبریز ہو کر کہہ اٹھتا ہے ۔ اچھا یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں

ادبی روایت کی پرکھ و پڑتال میں نکلیں تو یہ شاعری مصرعہ ہے اور احمد فرازکے شعر سے اُخذ کیا گیا ہے ۔ احمد فراز کا یہ شعر کچھ یوں ہے

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں

یہ بات ہے تو چلو ’’بات کرکے دیکھتے ہیں 

بڑے بڑے نامور ادیبوں کے ناموں کی لمبی فہرست میری میموری میں شامل ہے جنہوں نے اپنی اپنی کتب کے نام شاعری سے اخذ کیے ہیں جن میں سے چند کا ذکر ’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘ میں بھی کیا گیا ہے ۔ مختار مسعود کی آواز دوست ہو یا کئی چاند تھے سرآسماں ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی یا جاگے ہیں خواب میں ،اختر رضا سلیمی کا ناول اس کی عمدہ مثالیں ہیں ۔ غزلوں ،اشعار سے یعنی شاعری سے کتابوں کے لیے نام اخذ کرنا پرانی روایت چلی آرہی ہے ۔ سراج احمد تنولی نے بھی اس روایت کو قائم رکھا ہے ۔

سراج احمد تنولی کتاب دوست نوجوان ہے اب ماشاء اللہ صاحب کتاب بھی ہو گیا ہے ۔ یہ نوجوان صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ادب پرور شخص بھی ہے ۔ جس کا ادبی لگاءو ’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘سے عیاں ہے ۔ جس طرح ان کا لگاءو اور ادبی دلچسپی ہے مستقبل میں بڑا نام پائے گا ۔ ابھی تو ترقی کی طرف پہلا زینہ ہے ابھی اسے بہت سفر کرنا ہے ۔ میں اس کا مستقبل تاب ناک دیکھ رہا ہوں ۔

بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘سراج احمد تنولی کا شاہکار ہے جس میں 43مشاہیر علم و ادب کے انٹرویوز ہیں ۔ انٹرویو ایک معروف صحافتی اصطلاح ہے ۔ یہ انگریزی زبان کا لفظ ہے جسے ہم اردو میں ملاقات ،روبرو ،گفتگو یا بات چیت کہہ سکتے ہیں ۔ انٹرویو ایک جامع لفظ ہے اور اس کا صحیح اردو متبال لفظ موجود نہیں ہے ۔ انگریزی زبان کا یہ لفظ صحافت کی دُنیا میں اب اتنا عام ہو چکا ہے کہ یہی لفظ اب اردو میں بھی مستعمل ہے ۔ صحافت میں انٹرویو کو خاص اہمیت ہے اور انٹرویو کسی مقصد کے لیے بات چیت کا دوسرا نام ہے ۔ انٹرویو خبروں کو بھی جنم دیتا ہے ۔ سراج احمد تنولی ایک اُبھرتا ہوا صحافی ہے ۔ انہوں نے یہ انٹرویو ز روزنامہ سرگرم نیوز ’’کے ادبی صفحے ‘‘کے لیے کیے ہیں ۔ اب یہ ایک جامع کتا ب ’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘کی صورت ہمارے سامنے ہیں ۔

بات کرکے دیکھتے ہیں اکتوبر 2019ء میں پاکستان ادب پبلشرکے روح و رواں سمیع اللہ خان نے بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے ۔ سمیع اللہ خان خود بھی ایک ادیب اور صحافی ہیں ۔ ادب کے نگینوں سے متعارف کرواتے رہتے ہیں ۔ بات کرکے دیکھتے ہیں 436صفحات کی سفید کاغذ پر چھپی معیاری اور شاندار کتاب ہے جس کی قیمت 800روپے ہے ۔

بات کرکے دیکھتے ہیں کا انتساب کچھ یوں ہے ،محبت کے پیکر ،مہربان و شفیق والدین نرگس بی بی اور جان محمد کے نام جن کے علاوہ اس مطلبی دُنیا میں بے وجہ کوئی دعائیں نہیں دیتا‘‘یہاں لکھاری ہارے ہوئے شخص کا تصوردیتا ہے اور معاشرے سے مایوس دِکھائی دیتا ہے ۔ میرے نزدیک اس جملے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ سراج احمد تنولی کا محمد نعیم یاد کا پنسل اسکیچ عمدہ اور بہت خوبصورت ہے ۔ ساتھ ایک شعر بھی دیا گیا ہے جو کچھ یوں ہے

بڑھتے رہو کہ تم ہو ملک و قوم کا سرمایا

شجر بھی تم ،ٹہنی بھی تم اور تم ہی ہو سایہ

’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘کے بارے میں چند علم وادب کی شخصیات نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا ہے ۔ جن میں سمیع اللہ خان،انٹرویو کی تاریخ کے جھرونکوں سے چند موتی سامنے لائے ہیں اور سراج احمد تنولی کے کام کو سراہا ہے ۔ ڈاکٹر اسحاق وردگ لکھتے ہیں جیسے جیسے وقت کا پہہ آگے بڑھتا جائے گا ویسے ویسے بات کرکے دیکھتے ہیں کی قدروقیمت بڑھتی جائے گی ۔ احمد حسین مجاہد لکھتے ہیں ’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘سراج احمد تنولی کی صحافتی اور ادبی زندگی کا وہ روشن باب ہے جس پر وہ جتنا فخر کرے کم ہے ۔ جمیل احمد عدیل لکھتے ہیں سراج احمد تنولی جواں سال ادیب ہیں ان کی طبعی سیمابیت خبر دیتی ہے کہ فکر و فن کی ایک سے زائد اطراف کو وہ اپنی پہچان کا ترجمان بنانے میں بامراد ٹھہریں گے ۔ سید رحمان شاہ لکھتے ہیں ’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘ایک گلدان کی طرح ہے جس میں مختلف رنگ کے پھول اپنی منفرد خوشبو اور رنگ کے ساتھ ہ میں مختلف ادیبوں کی صورت میں دِکھائی دیتے ہیں ۔

ہوا کے رُخ پر ،کھلی ہتھیلی پہ خشک مٹی

اب اس سے بڑھ کر میں اپنے بارے میں کیا بتاؤں

قبلہ ایاز صاحب لکھتے ہیں ’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘ ایک وقیع دستاویز ہے اس میں متعلقہ حضرات کی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ پر ان کی مختصر آراء بھی شامل ہیں ۔ مثلاسی پیک اور موجودہ حکومت کی کارکردگی وغیرہ ۔ نیر نوجوانوں کی راہنمائی کے لیے مفید مشورے بھی شامل ہیں ۔ بعض حضرات کے انٹرویوز میں ان کی ذاتی زندگی سے ہٹ کر معاشرے کے لیے سر انجام دی جانے والی خدمات کا تذکرہ بھی موجود ہے ۔ بحیثیت مجموعی سراج احمد تنولی صاحب نے بڑی محنت کی ہے اور کتاب کو اہل علم کے لیے مفید سرمایہ بنا دیا ہے ۔ بے شک قبلہ ایاز صاحب درست فرماتے ہیں ۔ کیونکہ میں نے باریک بینی سے کتاب کا مطالعہ کیا ہے

’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘کے انٹرویوز میں بعض سوالات مشترک ضرور ہیں لیکن جوابات ایک جیسے نہیں ہیں ۔ ہر شخص نے اپنے تجربے اور،مشاہد ے کا نچوڑ بیان کر دیا ہے ۔ اس کا سرورق دیدہ زیب ہے ۔ بیک فلاپ پہ مصنف خوشگوار موڈ میں کھڑا مسکرا رہا ہے اور ساتھ ہی قبلہ ایاز کا اظہار خیال ہے ۔ ’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘ میں لفظی ،حرفی خال خال غلطیاں ضرور ہیں لیکن مکمل طور پر ایک جامع اور شاندار کتاب ہے ۔ میں اس کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک لمحہ کو بوریت کا شکار نہیں ہوا البتہ دلچسپی بڑھتی گئی ہے ۔ کہیں کہیں تشنگی ضرور رہی ہے کہ مشاہیر علم و ادب نے جوابات کا دامن سمیٹا ہے ۔ جیسے ناصر ملک کا انٹرویو مختصر ہے اس میں تشنگی رہ گئی ہے ۔ البتہ ڈاکٹر اورنگزیب نیازی ،ڈاکٹر طارق ہاشمی ،لبنٰی صفدر،سید ماجد شاہ ،سید فہیم کاظمی،اختر رضا سلیمی ،اسد سلیم شیخ،جمیل احمد عدیل ،پروفیسر کلیم احسان بٹ مشاہیر علم وادب نے سیر حاصل گفتگو کی ہے اور محمود ظفر اقبال ہاشمی کے انٹرویوکی افادیت یوں بڑھ جاتی ہے کہ اس میں ناولز کے اقتباس دئیے گئے ہیں اور پہلا انٹرویو ہے جس میں کھیلوں کے متعلق پوچھا گیا ہے ۔ پروفیسر کلیم احسان بٹ سے انٹرویو لیتے ہوئے السلام علیکم !یعنی سلام کیا گیا ہے ۔ ’’بات کرکے دیکھتے ہیں ‘‘کو ہر سکول ،کالج اور لائبریری کی زنیت ضرور بنناچاہیے اور ہر اہل علم و ادب شخصیت کے پاس لازمی ہونا چاہیے ۔ یہ ایک خزانہ ہے اور یہ خزانہ ہر شخص کے پاس ہو کیونکہ اس میں علم و ادب کے موتیوں کے سمندر موجزن ہیں ۔

تبصرہ نگار:مجیداحمد جائی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آگہی
  • خراجِ تحسین
  • قلم کی طاقت اور ذمہ داری
  • انسانی مرگ پر مہکتی اکائیاں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
مجید احمد

اگلی پوسٹ
صفاتی ناول ’’صُفہ‘‘اور دُردانہ نوشین خان
پچھلی پوسٹ
مجھے نہ چھوڑنا سے مجھے نہ چھونا تک

متعلقہ پوسٹس

 کنور سنگھ​

دسمبر 12, 2019

ہر ایک بات میں تیرا

جولائی 6, 2025

ایک ہی رہتا ہے الم صاحب

دسمبر 16, 2021

خنک شہرِ ایران

جنوری 25, 2020

مستقبل کا موسم

ستمبر 12, 2025

خالد میاں

اکتوبر 24, 2020

پریم چند : اردو افسانہ کے امام

جون 1, 2025

دنیا! ہالی وڈ کا اسٹوڈیو بن گئی ہے

اپریل 18, 2020

محبت اور ماضی و حال

جولائی 26, 2020

ترجیحات

مئی 8, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

غلام سے امامِ امت تک

جنوری 10, 2026

نیا عزم

جون 10, 2024

مفتی عبد الرزاق خاں صاحب ؒ:...

جون 13, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں