خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےجنٹلمینوں کا بُرش
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

جنٹلمینوں کا بُرش

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 31, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 31, 2020 0 تبصرے 434 مناظر
435

جنٹلمینوں کا بُرش

یہ غالباً آج سے بیس برس پیچھے کی بات ہے۔ میری عمر یہی کوئی بائیس برس کے قریب ہو گی، یا شاید اس سے دو برس کم۔ کیونکہ تاریخوں اور سنوں کے معاملے میں میرا حافظہ بالکل صفر ہے۔ میری دوستی کا حلقہ ان نوجوان پر مشتمل تھا جو عمر میں مجھ سے کافی بڑے تھے۔ حفیظ پینٹر کی دُکان میں جو بجلی والے چوک سے بائیں ہاتھ ہال بازار کے پاس ہی واقع تھی، ہم سب بیٹھتے اور گھنٹوں گپ بازی ہوتی رہتی۔ میں پڑھائی وڑھائی قریب قریب چھوڑ چکا تھا۔ اسی طرح مبارک اپنی ملازمت پر لات مار کر امرتسر واپس چلا آیا تھا۔ وہ کسی ریاست میں ملازم تھا۔ حفیظ پینٹر کی اپنے باپ سے چخ ہو گئی تھی، اس لیے اس نے علیحدہ ایک بڑی دُکان لے لی جس میں کچھ عرصہ پہلے ایک کمیونسٹ سکھ کی دکان تھی، جو گرامو فون ڈیلر تھا۔ خیر دین کی مسجد سے ملحقہ دکان ہال بازار میں تھی مگر اچھے موقع پر تھی۔ یعنی عین ہال بازار کے وسط میں اورمسجد کے زیر سایہ خرابات مروجہ اصولوں کے ماتحت ہونی ہی چاہیے۔ اس لیے وہ اسے بہت پسند آگئی تھی۔ ادھر اذان ہوتی تو ادھر ریکارڈ بجتے۔ لیکن کوئی دنگا فساد اس بات پر وہاں کبھی نہ ہوا۔ البتہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر سینکڑوں خون ہوتے رہتے۔ امروپرستی غنڈوں، رنڈی بازی پر، گنڈوں کی دو مخالف پارٹیوں پر، ایسے مسلم مسلم اور مسلم ہندو فساد عام تھے۔ جو ایک دو دن اپنی دھاک بٹھا کر جھاگ کے مانند غائب ہو جاتے۔ گرمی کی پہلی پیلی بھڑوں کے مانند جو اپنے اردگرد جالا تن لیتی ہیں اوربظاہر بالکل مردہ ہو جاتی ہیں۔ لیکن معلوم نہیں پھر موافق موسم آنے پر زندہ ہو جاتی ہیں، اور بے قصور آدمیوں کو کاٹنے کے شغل میں مصروف ہوجاتی ہیں۔ امرتسر ایک عجیب و غریب شہر ہے۔ یہاں ہر ایک قسم کی شے اس زمانے میں پائی جاتی تھی۔ بھنگنوں کی لڑائی سے لے کر گورنمنٹ سے پنجہ کشی کرنے تک۔ لوگ بھی بھانت بھانت کے تھے۔ لالے جو اپنی بزازی کی دکانوں پر پادتے رہتے اور کچھ ایسے من چلے بھی تھے جو چھوٹے چھوٹے پٹاخے بنا کر چلاتے تھے کہ لوگوں کے دل ایک لحظے کے لیے دہل جاتے۔ دہشت پسند بھی تھے اور امن پسند بھی۔ نمازی اور پرہیزگار بھی تھے اور اول درجے کے اوباش اور گناہ گار بھی۔ مسجدیں تھیں اور مندر بھی۔ ان میں گناہ کے کام بھی ہوتے تھے اور ثواب کے بھی۔ غرضیکہ انسانی زندگی کے یہ سب دھارے ساتھ ساتھ متواتر بہا کرتے تھے۔ کئی سیاسی تحریکیں ہوئیں۔ کئی غنڈوں کا آپس میں کشت و خون ہوا۔ مسلمانوں اور قادیانیوں میں کئی مباہلے ہوئے، جن میں بڑے جغادری علمائے کرام نے حصہ لیا۔ قحط پڑے، وبائیں آئیں۔ جلیاں والا کا تاریخی حادثہ ہوا، ہزاروں انسان، جن میں مسلمان، سکھ، ہندو سب شامل تھے، موت کے گھاٹ اتارے گئے، لیکن امرتسر جوں کا توں رہا۔ حفیظ پینٹر کی دکان پر یوں تو دنیا بھر کے سیاسی، مجلسی اور معاشی مسائل پر تبادلہ خیالات اور بحث ہوتی رہتی، مگر بڑے خام انداز میں۔ اصل میں وہ سب کے سب آرٹسٹ تھے۔ گو نیم رس۔ ان کو دراصل موسیقی سے شغف تھا۔ کوئی طبلے کی جوڑی اٹھا لیتا، کوئی ستار، کوئی سارنگی اور کوئی تانبورہ ہاتھ میں لے کر میاں کی ٹوڈی، مالکونس یا بھاگیری کا الاپ شروع کردیتا۔ یہاں بھانگ بھی گھوٹی جاتی، چرس بھرے سگریٹ بھی پِیے جاتے، شراب کے دور اکثر چلتے۔ اس لیے کہ دن اتنا بڑا بے باک نہیں تھا۔ ساڑھے آٹھ روپے میں ایک پوری بوتل بڑھیا سے بڑھیا اسکاچ وسکی کی آجاتی تھی۔ حفیظ شام کو اپنی دکان کے بھاری بھر کم کواڑ بند کردیتا اور ہم چٹائیوں پر بیٹھ کر اس مشروب سے آہستہ آہستہ لطف اندوز ہوتے۔ پھر آدھی رات کو جب آس پاس کی ساری دکانیں بند ہوتیں، ہم موسیقی کا دورشروع کردیتے۔ یہاں قریب قریب سب گویّے، بڑے اور چھوٹے فن کا مظاہرہ کرچکے تھے۔ اس لیے کہ زندہ دل نوجوانوں کی محفل تھی۔ پھکڑ بازی بھی ہوتی تو کوئی برا نہ مانتا تھا۔ ایک دن میں صبح دس بجے کے قریب حفیظ پینٹر کی دکان کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ اس لیے کہ مجھے ذرا آگے چل کر ایک کیمسٹ کی دکان سے اپنے کان کے لیے دوا لینی تھی کہ حفیظ نے برش کان میں اڑس کر مجھے باآواز بلند پکارا اور اسی کان میں اڑے ہوئے برش کو نکال کر اس سے مجھے اشارہ کیا، جس کا یہ مطلب تھا کہ میں اس کی بات سنتا جاؤں۔ میں اس کی دکان کے تھڑے کے پاس کھڑا ہو گیا، اور اس سے پوچھا

’’کیا بات ہے حفیظ صاحب؟‘‘

حفیظ نے برش پھر کان میں اڑس لیا اور جواب دیا

’’بات یہ ہے میری جان کہ آج تو کل کا گانا ہو گا۔ اس کے ساتھ مچھر خان اور بسے خان بھی ہوں گے۔ وہ معاملہ بھی ہو گا۔ چھ بجے سے پہلے پہلے ہی آجانا۔ میں نے تمام دوستوں کو اطلاع دے دی ہے۔ توکل کو میں نے سنا تو نہیں لیکن نئے خیال کے لوگ اسے بہت پسند کررہے ہیں۔ نوجوان ہے۔ کہتے ہیں کہ خاں صاحب عاشق کے مانند بے ڈار گاتا ہے اور حق ادا کرتا ہے۔ ‘‘

میں بہت خوش ہوا

’’آؤں گا اور ضرور آؤں گا۔ مگر یہ مچھر خان کیا بلاہے۔ کیا تم اسے کسی مچھردانی کے اندر بٹھاؤ گے؟‘‘

حفیظ پینٹر کھکھلا کر ہنسا

’’ارے نہیں یار، اس کی عادت ہے کہ جب کوئی تان لیتا ہے اور واپس سم پر آتا ہے اور بڑے زور سے اپنی رانوں پر دوہتڑ مارتا ہے۔ اس لیے اس کا نام مچھر خان پڑ گیا ہے۔ جیسے وہ گا نہیں رہا، بلکہ اپنے بدن پر کاٹنے والے مچھر مار رہا ہے۔ ‘‘

میں نے اس سے کہا

’’چلو، اس کا تماشا بھی دیکھ لیں گے۔ پر اگر اس نے آج رات کوئی مچھر نہ مارا تو یہ طے ہے کہ تمہارے آرٹ اسٹوڈیو سے وہ زندہ باہر نہیں نکلے گا۔ ‘‘

حفیظ کھکھلا کر ہنسا، کان میں سے اُڑسا ہوا برش نکالا اور سائن بورڈ پینٹ کرنے لگا

’’جاؤ یار جاؤ۔ میرا وقت ہرج کررہے ہو۔ مجھے یہ کام وقت پر مکمل کرنا ہے۔ ‘‘

میں وہاں سے چلا گیا۔ کیمسٹ کی دکان سے دوائی لی۔ باہر نکلا تو شیخ صاحب جو وہاں کے بہت بڑے رئیس تھے، ان سے دو آدمی دکان کے پاس کھڑے باتیں کررہے تھے۔ میں نے شیخ صاحب کو سلام کیا۔ انہوں نے جیسا کہ ان کی عادت تھی، چھڑی بجلی کے کھمبے کے ساتھ ماری۔ جب آواز پیدا ہوئی تو ان کا اطمینان ہو گیا تو وہ مجھ سے مخاطب ہوئے۔

’’کہو بھئی سعادت کیا حال ہے۔ ‘‘

میں نے عرض کی

’’جناب کی دُعا سے سب ٹھیک ہے۔ ‘‘

جن دو آدمیوں سے شیخ صاحب باتیں کررہے تھے، وہ سیاہ فام تھے، لیکن اچکن کا رنگ ان کے رنگ سے کہیں زیادہ کالا۔ دبلا پتلا، لیکن چہرے کے نقش تیکھے۔ شیخ صاحب چلنے لگے تو اس آبنوسی گوشت پوست کے ٹکڑے نے تیزی سے بڑھ کر شیخ صاحب کے کوٹ کی پیٹھ جھاڑنی شروع کی، بڑی نفاست سے، شیخ صاحب نے گرما کر اس سے پوچھا

’’کیا بات تھی؟‘‘

اس آبنوسی آدمی نے بڑی پتلی آواز میں جواب دیا

’’چندبال تھے اور تھوڑی سی گرد۔ ‘‘

شیخ صاحب نے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا

’’اچھا تم کل صبح گھر پہ آنا‘‘

اور وہ پھر بجلی کے کھمبے کو اپنی چھڑی سے بجاتے ہوئے غالباً کمپنی باغ کی طرف نکل گئے۔ ایک دن میں نے پھر اسے دیکھا۔ اپنے کٹڑے کے بازار میں وہ دو لالوں کی مصاحبی میں مصروف تھا۔ اس نے صاف ستھرے کوٹوں پر سے کئی مرتبہ غیر مرئی چیزیں جدا کیں۔ اس دن بھی وہ اپنی کالی اچکن پہنے تھا۔ حالانکہ کالے کپڑے پر گردوغبار فوراً نمایاں ہوتا ہے، مگر میں نے غور سے دیکھا، کہ اس پرایسی کوئی چیز بھی نہیں تھی۔ میرا خیال ہے وہ جنٹل مینوں کے برش کے علاوہ اپنا برش خود بھی تھا۔ مجھے راستے میں ایک دوست مل گیا۔ میں نے اس سے پوچھا

’’یہ آبنوسی آدمی کون ہے؟‘‘

اس نے حیرت سے پوچھا

’’کون سا آبنوسی آدمی۔ بن مانس سنے تھے، مگر آبنوسی کہاں سے تم نے گھڑ لیا۔ ‘‘

میں نے اس سے ذرا تیز لہجے میں کہا

’’ارے یہ آدمی جو ہمارے آگے آگے جارہا ہے۔ چغد ہو پرلے درجے کے۔ کیا اتنا بھی نہیں جانتے کہ آبنوس ایک لکڑی ہوتی ہے۔ ‘‘

’’تو کیا یہ لکڑی ہے جو چل پھر رہی ہے؟‘‘

’’ابے نہیں۔ آبنوس کا رنگ کالا ہوتا ہے، چونکہ اس نے کالی اچکن پہنی ہے اور رنگ بھی اس کا خدا کے فضل و کرم سے خاصا کالا ہے، تو میں نے اسے آبنوسی کہہ دیا۔ ‘‘

میرا دوست ہنسا

’’ارے، تم اسے نہیں جانتے، اس کا نام جنٹل مینوں کا برش ہے۔ ‘‘

’’اتنا تو میں جانتا ہوں۔ ‘‘

’’تو اس سے زیادہ تم اور کیا جاننا چاہتے ہو؟‘‘

میں نے چِڑ کر کہا

’’یہی کہ اس کا محل وقوع کیا ہے۔ اس کا پیشہ کیا ہے؟‘‘

میرا دوست مسکرایا

’’یہ ذات کا رُبابی ہے، جو دربارصاحب میں چوکی کرتے ہیں۔ مگر یہ وہاں نہیں جاتا۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’بس اس کو امیروں کی صحبت حاصل ہے۔ ان ہی میں اٹھتا بیٹھتا ہے، اور ان کے کوٹوں پر برش کرتا رہتا ہے۔ ‘‘

میں نے اس سے پوچھا

’’کھاتا پیتا کہاں سے ہے؟‘‘

جواب ملا

’’جن کی مصاحب داری کرتا ہے۔ اس کے علاوہ گاتا بہت اچھا ہے۔ ‘‘

میں نے پوچھا

’’تم نے کبھی سنا ہے اس کو؟‘‘

’’نہیں، البتہ تعریف بہت سنی ہے۔ ‘‘

ہم باتوں میں مشغول پیچھے رہ گئے اور وہ جنٹل مینوں کا آبنوسی برش ان دو لالوں کے کوٹ جھاڑتا بہت دور نکل گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد میرا دوست بھی مجھ سے جدا ہو گیا۔ اس کو کوئی ضروری کام تھا ورنہ میں اس شخص کے متعلق کچھ اور معلومات حاصل کرتا۔ اتفاق سے مجھے اپنے بہنوئی( جو امرتسر کے آنریری مجسٹریٹ تھے اور خدا معلوم کیا کیا تھے) کے ساتھ ایک تقریب پر جانا پڑا۔ اب مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ وہ تقریب تھی جو نئے ڈپٹی کمشنر کے تقرر کے سلسلے میں تھی۔ وہ شخص وہی کالی اچکن پہنے معزز اور رئیس لوگوں کے اردگرد چکر لگا رہا تھا۔ اس نے بلا مبالغہ آدھے گھنٹے کے اندر اندر چن چن کر کئی رؤسا کے کوٹ صاف کیے۔ اپنی پتلی پتلی انگلیوں سے۔ کسی کے کالر پر سے اس نے بال اٹھائے، کس کے کوٹ کی پیٹھ پر سے۔ بعضوں کے کوٹوں کو، جب اس کی سمجھ میں نہ آیا وہ گرد اپنے رومال سے جھاڑ دی اور ہر ایک سے شکریہ وصول کیا۔ بڑی جرأت سے کام لے کر وہ ڈپٹی کمشنر بہادر کے پاس بھی جا پہنچا، اور اس کی پتلون صاف کردی۔ وہ انگریز تھا۔ اس نے جنٹل مینوں کے برش کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد ایک رات جب کہ ہلکی ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی اور حفیظ پینٹر کی دکان میں ہم معشوق علی فوٹو گرافر سے اس کا گانا سن کر محظوظ ہورہے تھے، اور ساتھ ساتھ وسکی بھی پی رہے تھے، کہ اچانک دکان کا پھاٹک نما دروازہ کھلا اور جنٹل مینوں کا برش نمودار ہوا۔ اس نے ہم سب سے مخاطب ہو کر کہا

’’میں ادھر سے گزر رہا تھا کہ گانے کی آواز سنائی دی۔ ماشاء اللہ بڑی سریلی تھی۔ ہے تو یہ تہذیب کے خلاف کہ میں بِن بُلائے چلا آیا۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو کیا تھوڑی دیر کے لیے آپ کی محفل میں شریک ہو سکتا ہوں۔ ‘‘

حفیظ پینٹر اور معشوق علی فوٹو گرافربیک وقت بولے

’’ہاں، ہاں تشریف رکھیے۔ ‘‘

مبارک نے کہا،

’’سر آنکھوں پر۔ یہاں میرے پاس بیٹھیے۔ آپ تو خود بڑے معرکے کے گانے والے ہیں۔ کچھ نوش فرمائیے گا۔ ‘‘

مبارک کی مراد وسکی سے تھی، مگر جنٹل مینوں کے بُرس نے بڑی شائستگی سے کہا

’’جی نہیں۔ میں اس نعمت سے محروم ہوں۔ ‘‘

سب کے اصرار پر اس نے گانا شروع کیا۔ میاں کی ٹوڈی تھی جو اس نے ایسی خوش الحانی سے گائی کہ مزے آگئے۔ اس کے بعد اس نے اجازت چاہی۔ سب نشے میں چور تھے، اس لیے ان کو یہ خبر نہیں تھی کہ باہر زوروں کی بارش ہورہی ہے۔ لیکن جب جنٹل مینوں کے برش نے دروازہ کھولا تو اس نے کہا

’’حضور، باہر بہت بارش ہورہی ہے، کیسے جائیے گا۔ ‘‘

آبنوسی برش کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

’’آپ فکر نہ کریں، ابھی لالہ جگت نارائن کمبل والے کی گاڑی مجھے لینے کے لیے آجائے گی۔ آپ اپنا شغل جاری رکھیے۔ شکریہ!‘‘

یہ کہہ کر اس نے دکان کا پھاٹک نما دروازہ بند کردیا۔ ایک گھنٹے کے بعد بارش تھمی تو محفل برخاست کردی گئی۔ باہر نکل کر ہم نے دیکھا کہ کوئی آدمی بدرو میں اوندھے گرا پڑا ہے۔ میں نے غور سے دیکھا تو چلایا

’’ارے یہ تو وہی جنٹل مینوں کا برش ہے۔ ‘‘

حفیظ نے لڑکھڑاتے ہوئے لہجے میں کہا

’’جنٹل مینوں کی ایسی تیسی۔ چلو اپنے اپنے گھر۔ ‘‘

سب نے اس فیصلے پر صاد کیا۔ جب وہ چلے گئے تو تھوڑی دیر کے بعد وہ شخص جو بے داغ کالی اچکن پہنتا تھا اور رؤسا کے کوٹ صاف کیا کرتا ہے، ہوش میں آیا۔ اس کی اچکن کیچڑ سے اٹی ہوئی تھی، مگر اسے صاف کرنے والا کوئی نہیں تھا۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہاسٹل کی زندگی کے مسائل
  • پانی کے آئینے میں قید دیوی
  • اپریل فول اور اس کی حقیقت
  • ہماری غلامی اور اقبال کی تنبیہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جسم اور رُوح
پچھلی پوسٹ
جُھمکے

متعلقہ پوسٹس

پانچ قبریں

دسمبر 23, 2021

بیٹیاں نا قابل برداشت بوجھ !

جنوری 14, 2021

جسم تیرا لیکن ۔ مرضی پروردگار کی

فروری 28, 2020

فطرت کے دامن میں خاموش جذبات

نومبر 24, 2024

دنیا میں کچھ لوگ

دسمبر 2, 2025

شفیق الرحمٰن: اردو مزاح کا لازوال ستارہ

ستمبر 19, 2025

خیالستان کی پری

اپریل 1, 2023

نثری نظم یا نثر میں شاعری

مئی 27, 2024

جشن آزادی اور شریعت

اگست 9, 2024

قرآن کا بیانیہ

مارچ 6, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

محبت الٰہی

اکتوبر 29, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

آزاد نعتیہ نظم "حضورِ اکرم”

اکتوبر 18, 2026

امیر کون غریب کون

اکتوبر 13, 2026

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

اردو شاعری

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام...

نومبر 1, 2026

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

اکتوبر 29, 2026

میں نے سوچا ہے تمہیں

اکتوبر 29, 2026

اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے

اکتوبر 26, 2026

اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں

اکتوبر 26, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مردانگی

نومبر 1, 2026

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

نومبر 1, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

اور عذاب کسے کہتے ہیں؟

اکتوبر 23, 2026

"دیا” (کالمز کا مجموعہ)

اکتوبر 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

    اکتوبر 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کلمہ مہمل

مارچ 24, 2026

عدم برداشت

ستمبر 4, 2025

اخلاص کے ساتھ انفاق

جنوری 4, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں