خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےحافظ حسین دین
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

حافظ حسین دین

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020 0 تبصرے 292 مناظر
293

حافظ حسین دین

حافظ حسین دین جو دونوں آنکھوں سے اندھاتھا، ظفر شاہ کے گھر میں آیا۔ پٹیالے کا ایک دوست رمضان علی تھا، جس نے ظفر شاہ سے اُس کا تعارف کرایا۔ وہ حافظ صاحب سے مل کر بہت متاثر ہوا۔ گو اُن کی آنکھیں دیکھتی نہیں تھیں مگر ظفر شاہ نے یوں محسوس کیا کہ اُس کو ایک نئی بصارت مل گئی ہے۔ ظفر شاہ ضعیف الاعتقاد تھا۔ اُس کو پیروں فقیروں سے بڑی عقیدت تھی۔ جب حافظ حسین دین اُس کے پاس آیا تو اُس نے اُس کو اپنے فلیٹ کے نیچے موٹر گراج میں ٹھہرایا۔ اُس کو وہ وائٹ ہاؤس کہتا تھا۔ ظفر شاہ سید تھا۔ مگر اُس کو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ مکمل سید نہیں ہے۔ چنانچہ اُس نے حافظ حسین دین کی خدمت میں گزارش کی کہ وہ اس کی تکمیل کردیں۔ حافظ صاحب نے تھوڑی دیر بعد اپنی بے نُور آنکھیں گھما کر اُس کو جوا ب دیا۔

’’بیٹا۔ تو پورا بننا چاہتا ہے تو غوث اعظم جیلانی سے اجازت لینا پڑے گی۔ ‘‘

حافظ صاحب نے پھر اپنی بے نُور آنکھیں گھمائیں۔

’’اُن کے حضور میں تو فرشتوں کے بھی پر جلتے ہیں۔ ‘‘

ظفر شاہ کو بڑی نااُمیدی ہوئی۔

’’آپ صاحبِ کشف ہیں۔ کوئی مداوا تو ہو گا۔ ‘‘

حافظ صاحب نے اپنے سر کو خفیف سی جنبش دی۔

’’ہاں چلہ کاٹنا پڑے گا مجھے۔ ‘‘

’’اگر آپ کو زحمت نہ ہوتو اپنے اس خادم کے لیے کاٹ لیجیے۔ ‘‘

’’سوچوں گا۔ ‘‘

حافظ حسین دین ایک مہینے تک سوچتا رہا۔ اس دوران ظفر شاہ نے اُن کی خاطر و مدارات میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ حافظ صاحب کے لیے صبح اٹھتے ہی ڈیڑھ پاؤ بادام توڑتا۔ ان کے مغز نکا ل کر سردائی تیار کرتا۔ دوپہر کو ایک سیر گوشت بھنوا کے اُس کی خدمت میں پیش کرتا۔ شام کو بالائی ملی ہوئی چائے پلاتا۔ رات کو ایک مُرغ مسلم حاضر کرتا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ آخر حافظ حسین نے ظفر شاہ سے کہا۔

’’اب مجھے آوازیں آنی شروع ہو گئی ہیں۔ ‘‘

ظفر شاہ نے پوچھا۔

’’کیسی آوازیں قبلہ۔ ‘‘

’’تمہارے متعلق۔ ‘‘

’’کیا کہتی ہیں۔ ‘‘

’’تم ایسی باتوں کے متعلق مت پوچھا کرو۔ ‘‘

’’معافی چاہتا ہوں۔ ‘‘

حافظ صاحب نے ٹٹول ٹٹول کر مرغ کی ٹانگ اُٹھائی اور اُسے دانتوں سے کاٹتے ہوئے کہا۔

’’تم اصل میں منکر ہو۔ آزمانا چاہتے ہو تو کسی کنوئیں پر چلو۔ ‘‘

ظفر شاہ تھرتھرا گیا۔

’’حضور میں آپ کو آزمانا نہیں چاہتا۔ آپ کا ہر لفظ صداقت سے لبریز ہے۔ ‘‘

حافظ صاحب نے سر کو زور سے جنبش دی۔

’’نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ تم ہمیں آزماؤ۔ کھانا کھالیں تو ہمیں کسی بھی کنوئیں پر لے چلو۔ ‘‘

’’وہاں کیا ہو گا قبلہ۔ ‘‘

’’میرا معمول آواز دے گا۔ وہ کنواں پانی سے لبا لب بھر جائے گا اور تمہارے پاؤں گیلے ہوئے جائیں گے۔ ڈرو گے تو نہیں؟‘‘

ظفر شاہ ڈر گیا تھا۔ حافظ حسن دین جس لہجے میں باتیں کررہا تھا بڑا پر ہیبت تھا۔ لیکن اُس نے اس خوف پر قابو پاکر حافظ صاحب سے کہا۔

’’جی نہیں۔ آپ کی ذاتِ اقدس میرے ساتھ ہو گی تو ڈر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جب سارا مرغ ختم ہو گیا تو حافظ صاحب نے ظفر شاہ سے کہا۔

’’میرے ہاتھ دُھلواؤ۔ اور کسی کنوئیں پر لے چلو۔ ‘‘

ظفر شاہ نے اُس کے ہاتھ دُھلوائے تولیے سے پونچھے اور اُسے ایک کنوئیں پر لے گیا جو شہر سے کافی دُور تھا ظفر شاہ چادر لپیٹ کر اُس کی منڈیر کے پاس بیٹھ گیا۔ مگر حافظ صاحب نے چلا کر کہا۔

’’پانچ قدم پیچھے ہٹ جاؤ۔ میں پڑھنے والا ہوں۔ کنوئیں کا پانی لبا لب بھر جائے گا۔ تم ڈر جاؤ گے۔ ‘‘

ظفر شاہ ڈر کر دس قدم پیچھے ہٹ گیا۔ حافظ صاحب نے پڑھنا شروع کردیا۔ رمضان علی بھی ساتھ تھا جس نے ظفر شاہ سے حافظ صاحب کا تعارف کرایا تھا۔ وہ دُور بیٹھا مونگ پھلی کھا رہا تھا۔ حافظ صاحب نے کنوئیں پر آنے سے پہلے ظفر شاہ سے کہا تھا کہ دو سیر چاول، ڈیڑھ سیر شکر اور پاؤ بھر کالی مرچوں کی ضرورت ہے جواس کا معمول کھا جائے گا۔ یہ تمام چیزیں حافظ صاحب کی چادر میں بندھی تھیں۔ دیر تک حافظ حسین دین معلوم نہیں کس زبان میں پڑھتا رہا۔ مگر اُس کے معمول کی کوئی آواز نہ آئی۔ نہ کنوئیں کا پانی اوپر چڑھا۔ حافظ نے چاول، شکر اور مرچیں کنوئیں میں پھینک دیں۔ پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ چند لمحات سکوت طاری رہا۔ اس کے بعد حافظ پر جذب کی سی کیفیت طاری ہوئی اور وہ بُلند آواز میں بولا۔

’’ظفر شاہ کو کراچی لے جاؤ۔ اُس سے پانچ سو روپے لو اور گوجرانوالہ میں زمین الاٹ کرالو۔ ‘‘

ظفر شاہ نے پانچ سو روپے حافظ کی خدمت میں پیش کردیے۔ اس نے یہ روپے اپنی جیب میں ڈال کر اُس سے بڑے جلال میں کہا۔

’’ظفر شاہ۔ تو یہ روپے دے کر سمجھتا ہے مجھ پر کوئی احسان کیا۔ ‘‘

ظفر شاہ نے سرتا پا عجز بن کر کہا۔

’’نہیں حضور میں نے تو آپ کے ارشاد کی تعمیل کی ہے۔ ‘‘

حافظ حسین دین کا لہجہ ذرا نرم ہو گیا۔

’’دیکھو سردیوں کا موسم ہے، ہمیں ایک دُھسّے کی ضرورت ہے۔ ‘‘

’’چلیے ابھی خرید لیتے ہیں۔ ‘‘

’’دو گھوڑے کی بوسکی کی قمیص اور ایک پمپ شو۔ ‘‘

ظفر شاہ نے غلاموں کی طرح کہا۔

’’حضور آپ کے حکم کی تعمیل ہو جائے گی۔ ‘‘

حافظ صاحب کے حکم کی تعمیل ہو گئی۔ پانچ سو روپے کا دُھسّہ۔ پچاس روپے کی قراقلی کی ٹوپی۔ بیس روپے کا پمپ شو۔ ظفر شاہ خوش تھا کہ اُس نے ایک پہنچے ہوئے بزرگ کی خدمت کی۔ حافظ صاحب وائٹ ہاؤس میں سو رہے تھے کہ اچانک بڑبڑانے لگے۔ ظفر شاہ فرش پر لیٹا تھا۔ اُس کی آنکھ لگنے ہی والی تھی کہ چونک کر سننے لگا۔ حافظ صاحب کہہ رہے تھے

’’حکم ہوا ہے۔ ابھی ابھی حکم ہوا ہے کہ حافظ حسین دین تم دریا راوی جاؤ اوروہاں چلہ کاٹو۔ چلہ کاٹو۔ وہاں تم اپنے معمول سے بات کرسکوگے۔ ‘‘

ظفرشاہ، حافظ کو ٹیکسی میں دریائے راوی پر لے گیا۔ وہاں حافظ چھیالیس گھنٹے معلوم نہیں کیا کچھ پڑھتا رہا۔ اُس کے بعد اُس نے ایسی آواز میں جو اُس کی اپنی نہیں تھی کہا۔

’’ظفر شاہ سے تین سو روپیہ اور لو۔ اپنے بھائی کی آنکھوں کا علاج کرو۔ تم اتنے غافل کیوں ہو۔ اگر تم نے علاج نہ کرایا تو وہ بھی تمہاری طرح اندھا ہوجائے گا۔ ‘‘

ظفر شاہ نے تین سو روپے اوردیدیے۔ حافط حسین دین نے اپنی بے نُور آنکھیں گھمائیں جس میں مسرت کی جھلک نظر آسکتی تھی۔ اور کہا

’’ڈاک خانے میں میرے بارہ سو روپے جمع ہیں۔ تم کچھ فکر نہ کرو پہلے پانچ سو اور یہ تین سو۔ کُل آٹھ سو ہوئے۔ میں تمھیں ادا کر دُوں گا۔ ‘‘

ظفر شاہ بہت متاثر ہوا۔

’’جی نہیں۔ ادائیگی کی کیا ضرورت ہے۔ آپ کی خدمت کرنا میرا فرض ہے۔ ‘‘

ظفر شاہ دیر تک حافظ کی خدمت کرتا رہا۔ اس کے عوض حافظ نے چالیس دن کا چلہ کاٹا مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ ظفر شاہ نے ویسے کئی مرتبہ محسوس کیا کہ وہ پورا سید بن گیا ہے اور اُس کی تطہیر ہو گئی ہے مگر بعد میں اُس کو مایوسی ہوئی کیونکہ وہ اپنے میں کوئی فرق نہ دیکھتا اس کی تشفی نہیں ہوئی تھی۔ اس نے سمجھا کہ شاید اُس نے حافظ صاحب کی خدمت پوری طرح ادا نہیں کی۔ جس کی وجہ سے اُس کی اُمید برنہیں آئی۔ چنانچہ اُس نے حافظ صاحب کو روزانہ ایک مرغ کھلانا شروع کر دیا۔ باداموں کی تعداد بڑھا دی۔ دودھ کی مقدار بھی زیادہ کر دی۔ ایک دن اُس نے حافظ صاحب سے کہا۔

’’پیر صاحب۔ میرے حال پر کرم فرمائیے میری مراد کبھی توپوری ہو گی یا نہیں۔ ‘‘

حافظ حسین دین نے بڑے پیرانہ انداز میں جواب دیا

’’ہو گی۔ ضرور ہو گی۔ ہم اتنے چلے کاٹ چکے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ تم سے ناراض ہیں۔ تم نے ضرور اپنی زندگی میں کوئی گناہ کیا ہو گا۔ ‘‘

ظفر شاہ نے کچھ دیر سوچا۔

’’حضور۔ میں نے۔ ایسا کوئی گناہ نہیں کیا جو۔ ‘‘

حافظ صاحب نے اُس کی بات کاٹ کر کہا۔

’’نہیں ضرور کیا ہو گا۔ ذرا سوچو۔ ‘‘

ظفر شاہ نے کچھ دیر سوچا۔

’’ایک مرتبہ اپنے والد صاحب کے بٹوے سے آٹھ آنے چرائے تھے۔ ‘‘

’’یہ کوئی اتنا بڑا گناہ نہیں۔ اور سوچو۔ کبھی تم نے کسی لڑکی کو بُری نگاہوں سے دیکھا تھا؟‘‘

ظفر شاہ نے ہچکچاہٹ کے بعدجواب دیا۔

’’ہاں پیرو مُرشد۔ صرف ایک مرتبہ۔ ‘‘

’’کون تھی وہ لڑکی؟‘‘

’’جی میرے چچا کی۔ ‘‘

’’کہاں رہتی ہے ؟‘‘

’’جی اسی گھر میں۔ ‘‘

حافظ صاحب نے حکم دیا۔

’’بُلاؤ اُس کو۔ کیا تم اُس سے شادی کرنا چاہتے ہو؟‘‘

’’جی ہاں۔ ہماری منگنی قریب قریب طے ہوچکی ہے۔ ‘‘

حافظ صاحب نے بڑے پر جلال لہجے میں کہا۔

’’ظفر شاہ۔ بُلاؤ اس کو۔ تم نے مجھ سے پہلے ہی یہ بات کہہ دی ہوتی تو مجھے بیکار اتنا وقت ضائع نہ کرنا پڑتا۔ ‘‘

ظفر شاہ شش و پنج میں پڑ گیا۔ وہ حافظ صاحب کا حکم ٹال نہیں سکتا تھا اور پھر اپنی ہونے والی منگیتر سے یہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ حافظ صاحب کو ملے۔ بادلِ ناخواستہ اُوپر گیا۔ بلقیس بیٹھی ناول پڑھ رہی تھی۔ ظفر شاہ کودیکھ کر ذرا سمٹ گئی اور کہا۔

’’آپ میرے کمرے میں کیسے آگئے۔ ‘‘

ظفر شاہ نے دبے دبے لہجے میں جواب دیا۔

’’وہ۔ جو حافظ صاحب آئے ہوئے ہیں نا۔ ‘‘

بلقین نے ناول ایک طرف رکھ دیا۔

’’ہاں ہاں۔ میں نے انھیں کئی مرتبہ دیکھا ہے۔ کیا بات ہے۔ ‘‘

’’بات یہ ہے کہ تم سے ملنا چاہتے ہیں۔ ‘‘

بلقیس نے حیرت کااظہار کیا۔

’’وہ مجھ سے کیوں ملنا چاہتے ہیں۔ اُن کی توآنکھیں ہی نہیں۔ ‘‘

وہ تم سے چند باتیں کرناچاہتے ہیں۔ بڑے صاحب کشف بزرگ ہیں۔ اُن کی بات سے ممکن ہے ہم دونوں کا بھلا ہو جائے۔ ‘‘

بلقیس مسکرائی۔

’’معلوم نہیں۔ آپ اتنے ضعیف الاعتقاد کیوں ہیں۔ لیکن چلیے۔ اندھا ہی تو ہے۔ اُس سے کیا پردہ ہے۔ ‘‘

بلقیس ظفر شاہ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں گئی۔ حافظ حسین دین بیٹھا چلغوزے کھا رہا تھا۔ جب اُس نے قدموں کی چاپ سُنی تو بولا

’’آ گئے ظفر شاہ۔ ‘‘

ظفر شاہ نے تعظیماً جواب دیا

’’جی ہاں حضور۔ ‘‘

’’لڑکی آئی ہے۔ ؟

’’جی ہاں‘‘

حافظ صاحب نے اپنی بے نُور آنکھوں سے بلقیس کو دیکھنے کی کوشش کی اور کہا۔

’’بیٹھ جاؤمیرے سامنے۔ ‘‘

بلقیس سامنے اسٹول پر بیٹھ گئی۔ حافظ صاحب نے ظفر شاہ سے کہا۔

’’اب تمہاری مراد بر آئیگی۔ ہم لڑکی کو وظیفہ بتائیں گے۔ انشاء اللہ سب کام ٹھیک ہو جائیں گے۔ ‘‘

ظفر شاہ بہت خوش ہوا۔ اس نے فوراً پھل منگوائے اور بلقیس سے کہا۔ حافظ صاحب معلوم نہیں کتنی دیر لگائیں۔ ان کی خدمت کرنا نہ بھولنا۔ ‘‘

حافظ صاحب نے کہا۔

’’دیکھو ہم تم سے بہت خوش ہیں۔ آج ہماری طبیعت چاہتی ہے کہ تمیں بھی خوش کردیں۔ جاؤ بازار سے چار تولے نوشادر، ایک تولہ چونا، دس تولے شنگرف اور ایک مٹی کا کُوزا لے آؤ۔ جتنااس کا وزن ہے اتنا ہی سونا بن جائے گا۔ ‘‘

ظفر شاہ بھاگا بھاگا بازار گیا۔ اور یہ چیزیں لے آیا۔ جب اپنے وائٹ ہاؤس پہنچا تو کواڑ کھلے تھے اور اس میں کوئی نہیں تھا۔ اُوپر گیا تو معلوم ہوا کہ بی بی بلقیس بھی نہیں ہے۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کوئی مرے کوئی جیوے
  • توبۃ النصوح – فصل سوم
  • کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ذہنی طور پر نابالغ ہے؟
  • جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
چوہے دان
پچھلی پوسٹ
حسن کی تخلیق

متعلقہ پوسٹس

بوگس شناختی کارڈ

نومبر 13, 2025

عورت کی زندگی پر معاشرتی دباؤ

اکتوبر 21, 2025

ڈائجسٹ کی کہانیاں

اپریل 1, 2023

اہل بیت اطہارسے محبت وعقیدت

ستمبر 11, 2020

حالات قابو میں نہیں ہیں !

مئی 3, 2020

توبۃ النصوح – فصل ہفتم

اکتوبر 30, 2020

موسم کی شرارت

جنوری 15, 2020

شہزاد نیّر سے ایک مختصر مصاحبہ

اپریل 24, 2025

فیوڈل فینٹسی

دسمبر 16, 2019

گرد آلود لہو لہو چہرے!

اکتوبر 28, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

غزہ کے بچوں کے نام

مارچ 20, 2025

سزائے موت یا عام معافی

مئی 3, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں