369
یہ صحرا کی صر صر صبا تو نہیں ہے
گھٹن ہے محبت ہوا تو نہیں ہے
میاں تخت والے سے کیوں ڈر رہے ہو
فقط آدمی ہے خدا تو نہیں ہے
چراغ ِ محبت مرے دل میں جاناں
ابھی جل رہا ہے بجھا تو نہیں ہے
میں اس کی برائی کروں کیوں خدایا
وہ بس بے وفا ہے برا تو نہیں ہے
گوارہ نہیں اس کو میری جدائی
رُتوں میں ہے شامل جدا تو نہیں ہے
سنو مے کدے کا وہ مجذوب عاصم
ابھی تک ہے زندہ مرا تو نہیں ہے
