خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےملاوٹ
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

ملاوٹ

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 16, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 16, 2020 0 تبصرے 843 مناظر
844

ملاوٹ

امرتسر میں علی محمد کی منیاری کی دکان تھی‘ چھوٹی سی مگر اس میں ہر چیز موجود تھی‘ اُس نے کچھ اس قرینے سے سامان رکھا تھا کہ ٹھنسا ٹھنسا دکھائی نہیں دیتا تھا۔ امرتسر میں دوسرے دکاندار بلیک کرتے تھے مگر علی محمد واجبی نرخ پر اپنا مال فروخت کرتا تھا ‘ یہی وجہ ہے کہ لوگ دُور دُور سے اس کے پاس آتے اور اپنی ضرورت کی چیزیں خرید کرتے۔ وہ مذہبی قسم کا آدمی تھا‘ زیادہ منافع لینا اس کے نزدیک گناہ تھا‘ اکیلی جان تھی‘ اس کے لیے جائز منافع ہی کافی تھا۔ سارا دن دکان پر بیٹھتا‘ گاہکوں کی بھیڑ لگی رہتی‘ اس کو بعض اوقات افسوس ہوتا جب وہ کسی گاہک کو سنلائیٹ صابن کی ایک ٹکیہ نہ دے سکتا یا کیلی فورنین پوپی کی بوتل‘ کیونکہ یہ چیزیں اسے محدود تعداد میں ملتی تھیں۔ بلیک نہ کرنے کے باوجود وہ خوشحال تھا۔ اُس نے دو ہزار روپے پس انداز کر رکھے تھے ‘ جوان تھا۔ ایک دن دکان پر بیٹھے بیٹھے اُس نے سوچا کہ اب شادی کر لینی چاہیے۔ بُرے بُرے خیال دماغ میں آتے ہیں‘ شادی کر لوں کہ زندگی میں لطافت پیدا ہو جائے گی‘ بال بچے ہوں گے‘ ان کی پرورش کے لیے میں اور زیادہ کمانے کی کوشش کروں گا۔ اس کے والدین عرصہ ہوا‘ اﷲ کو پیارے ہو چکے تھے‘ اس کی کوئی بہن تھی نہ بھائی۔ وہ بالکل اکیلا تھا ‘ شروع شروع میں جبکہ وہ دس برس کا تھا‘ اس نے اخبار بیچنے شروع کیے‘ اس کے بعد خوانچہ لگایا‘ قلفیاں بیچیں‘ جب اس کے پاس ایک ہزار روپیہ جمع ہو گیا تو اس نے ایک چھوٹی سی دکان کرائے پر لے لی اور منیاری کا سامان خرید کر بیٹھ گیا۔ آدمی ایماندار تھا‘ اُس کی دکان تھوڑے ہی عرصے میں چل نکلی۔ جہاں تک آمدن کا تعلق تھا وہ اس سے بے فکر تھا مگر وہ چاہتا تھا گھر بسائے۔ اس کی بیوی ہو‘ بچے ہوں اور وہ ان کے لیے زیادہ سے زیادہ کمانے کی کوشش کرے‘ اس لیے کہ اس کی زندگی مشین ایسی بن گئی تھی ‘ صبح دکان کھولتا‘ گاہک آتے انھیں سودا دیتا‘ شام کو دکان بند کرتا اور ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں جو اس نے شریف پورہ میں لے رکھی تھی‘ سو جاتا۔ گنجے کا ہوٹل تھا اس میں وہ کھانا کھاتا‘ صرف ایک وقت‘ صبح ناشتہ جیمل سنگھ کے کٹڑے میں شابھے حلوائی کی دکان میں کرتا‘ دکان کھولتا اور شام تک اپنی گدی پر بیٹھا رہتا۔ اس کے اندر شادی کی خواہش شدت اختیار کرتی گئی لیکن سوال یہ تھا کہ اس معاملے میں اس کی مدد کون کرے۔ امرتسر میں اس کا کوئی دوست یار بھی نہیں تھا جو اس کے لیے کوشش کرتا۔ وہ بہت پریشان تھا‘ شریف پورہ کی کوٹھڑی میں رات کو سوتے وقت وہ کئی مرتبہ رویا کہ اس کے ماں باپ اتنی جلدی کیوں مر گئے‘ انھیں اور کچھ نہیں تو اس لیے زندہ رہنا چاہیے تھا کہ وہ اس کی شادی کا بندوبست کر جاتے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ شادی کیسے کرے‘ بہت دیر تک سوچتا رہا‘ اس دوران میں اس کے پاس تین ہزار روپے جمع ہو گئے‘ اس نے ایک چھوٹے سے گھر کو جو اچھا خاصا تھا کرایے پر لے لیا مگر رہتا وہ شریف پورے ہی میں تھا۔ ایک دن اس نے اخبار میں ایک اشتہار دیکھا جس میں لکھا تھا کہ شادی کے خواہشمند حضرات ہم سے رجوع کریں۔ بی اے پاس لیڈی ڈاکٹر ‘ ہر قسم کے رشتے موجود ہیں‘ خط و کتابت کیجیے یا خود آ کے ملیے۔ اتوار کو وہ دکان نہیں کھولتا تھا اُس دن وہ اس پتے پر گیا اور اس کی ملاقات ایک داڑھی والے بزرگ سے ہوئی۔ علی محمد نے مدعا بیان کیا‘ داڑھی والے بزرگ نے میز کا دراز کھول کر بیس پچیس تصویریں نکالیں اور اس کو ایک ایک کر کے دکھائیں کہ وہ ان میں سے کوئی پسند کرے۔ ایک لڑکی کی تصویر علی محمد کو پسند آ گئی‘ چھوٹی عمر کی اور خوبصورت تھی۔ اس نے شادیاں کرانے والے ایجنٹ سے کہا ‘

’’جناب۔ یہ لڑکی مجھے پسند ہے‘‘

ایجنٹ مسکرایا

’’تم نے ایک ہیرا چن لیا ہے‘‘

علی محمد کو ایسا محسوس ہوا کہ وہ لڑکی اس کی آغوش میں ہے‘ اس نے گٹکنا شروع کر دیا

’’بس۔ جناب آپ بات پکّی کر دیجیے ‘ ایجنٹ سنجیدہ ہو گیا‘ دیکھو برخوردار!۔ یہ لڑکی تم نے چنی ہے‘ علاوہ حسین ہونے کے بہت بڑے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ لیکن تم سے زیادہ فیس نہیں مانگوں گا‘‘

’’آپ کی بڑی نوازش ہے۔ میں یتیم لڑکا ہوں۔ اگر آپ میرا یہ کام کر دیں تو آپ کو ساری عمر اپنا باپ سمجھوں گا‘‘

ایجنٹ کے مونچھوں بھرے ہونٹوں پر پھر مسکراہٹ نمودار ہوئی‘ جیتے رہو۔ میں تم سے صرف تین سو روپے فیس لوں گا‘ علی محمد نے بڑے متشکرانہ لہجے میں کہا

’’جناب کا بہت بہت شکریہ۔ مجھے منظور ہے‘‘

یہ کہہ کر اس نے جیب سے تین نوٹ سوسو روپے کے نکالے اور اس بزرگوار کو دے دیے۔ تاریخ مقرر ہو گئی‘ نکاح ہوا‘ رخصتی بھی ہوئی‘ علی محمد نے وہ چھوٹا سا مکان کرایے پر لے رکھا تھا‘ اب سجا سجایا تھا‘ وہ اس میں بڑے چاؤ سے اپنی دلہن لے کر آیا‘ پہلی رات کا تصور معلوم نہیں‘ اس کے دل و دماغ میں کس قسم کا تھا مگر جب اس نے دلہن کا گھونگھٹ ہاتھوں سے اُٹھایا تو اس کو غش سا آ گیا۔ نہایت بدشکل عورت تھی۔ صریحاً اس مرد بزرگ نے اس کے ساتھ دھوکا کیا تھا‘ علی محمد لڑکھڑاتا کمرے سے باہر نکلا اور شریف پورے جا کر اپنی کوٹھڑی میں دیر تک سوچتا رہا کہ یہ ہوا کیا ہے لیکن اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا۔ اس نے اپنی دکان نہ کھولی۔ دو ہزار روپے وہ اپنی بیوی کا حق مہر ادا کر چکا تھا‘ تین سو روپے اس ایجنٹ کو‘ اب اس کے صرف سات سو روپے تھے۔ وہ اس قدر دل برداشتہ ہو گیا تھا کہ اس نے سوچا شہر ہی چھوڑ دے۔ ساری رات جاگتا رہا اور سوچتا رہا ‘ اس نے فیصلہ کر ہی لیا ‘ صبح دس بجے اس نے اپنی دکان ایک شخص کے پاس پانچ ہزار روپے میں یعنی اونے پونے داموں بیچ دی اور ٹکٹ کٹوا کر لاہور چلا آیا۔ لاہور جاتے ہوئے گاڑی میں کسی جیب کترے نے بڑی صفائی سے اس کے تمام روپے غائب کر دیے‘ وہ بہت پریشان ہوا۔ لیکن اس نے سوچا کہ شاید خدا کو یہی منظور تھا۔ لاہور پہنچا تو اس کی دوسری جیب میں جو کتری نہیں گئی تھی صرف دس روپے اور گیارہ آنے تھے اس سے اس نے چند روز گزارہ کیا لیکن بعد میں فاقوں کی نوبت آ گئی۔ اس دوران میں اس نے کہیں نہ کہیں ملازم ہونے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا۔ وہ اس قدر مایوس ہو گیا کہ اس نے خودکشی کا ارادہ کر لیا مگر اس میں اتنی جرأت نہیں تھی‘ اس کے باوجود ایک رات وہ ریل کی پٹڑی پر لیٹ گیا‘ ٹرین آ رہی تھی مگر کانٹا بدلا اور وہ دوسری لائن پر چلی گئی کہ اسے ادھر ہی جانا تھا۔ اس نے سوچا کہ موت بھی دھوکا دے جاتی ہے چنانچہ اس نے خودکشی کا خیال چھوڑ دیا اور ہلدی اور مرچیں پیسنے والی ایک چکی میں بیس روپے ماہوار پر ملازمت اختیار کر لی۔ یہاں اسے پہلے ہی دن معلوم ہو گیا کہ دنیا دھوکا ہی دھوکا ہے‘ ہلدی میں پیلی مٹی کی ملاوٹ کی جاتی تھی‘اور مرچوں میں سرخ اینٹوں کی۔ دو برس تک وہ اس چکی میں کام کرتا رہا ‘ اس کا مالک ہر مہینے کم از کم سات سو روپے ماہوار کماتا تھا‘ اس دوران میں علی محمد نے پانچ سو روپے پس انداز کر لیے تھے‘ ایک دن اس نے سوچا جب ساری دنیا میں فریب ہی فریب ہے تو وہ بھی کیوں نہ فریب کرے۔ اس نے چنانچہ ایک علیحدہ چکی قائم کر لی اور اس میں مرچوں اور ہلدی میں ملاوٹ کا کام شروع کر دیا۔ اس کی آمدن اب کافی معقول تھی اس کو شادی کا کئی بار خیال آیا مگر جب اس کی آنکھوں کے سامنے اس پہلی رات کا نقشہ آیا تو وہ کانپ کانپ گیا۔ علی محمد خوش تھا اس نے فریب کاری پوری طرح سیکھ لی تھی‘ اس کو اب اس کے تمام گُر معلوم ہو گئے تھے‘ ایک من لال مرچوں میں کتنی اینٹیں پسنی چاہئیں‘ ہلدی میں کتنی زرد رنگ کی مٹی ڈالنی چاہیے اور پھر وہاں کا حساب‘ یہ اب اس کو اچھی طرح معلوم تھا۔ لیکن ایک دن اس کی چکی پر پولیس کا چھاپہ پڑا‘ ہلدی اور مرچوں کے نمونے بوتلوں میں ڈال کر مہر بند کیے گئے۔ اور جب کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ آئی کہ ان میں ملاوٹ ہے تو اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس کا لاہور میں کون تھا جو اس کی ضمانت دیتا۔ کئی دن حوالات میں بند رہا۔ آخر مقدمہ عدالت میں پیش ہوا اور اس کو سو روپیہ جُرمانہ اور ایک مہینے کی قید بامشقت کی سزا ہوئی۔ جرمانہ تو اس نے ادا کر دیا لیکن ایک مہینے کی قید بامشقت اسے بھگتنا ہی پڑی‘ یہ ایک مہینہ اس کی زندگی میں بہت کڑا وقت تھا۔ اس دوران میں وہ اکثر سوچتا تھا کہ اُس نے بے ایمانی کیوں کی‘ جبکہ اس نے اپنی زندگی کا یہ اصول بنا لیا تھا کہ وہ کبھی خراب کاری نہیں کرے گا۔ پھر وہ سوچتا کہ اسے اپنی زندگی ختم کر لینی چاہیے ‘ اس لیے کہ وہ اِدھر کا رہا نہ اُدھر کا ‘ اس کا کردار مضبوط نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ مر جائے تاکہ اس کا ذہنی اضطراب ختم ہو۔ جب وہ جیل سے باہر نکلا تو وہ مضبوط ارادہ کر چکا تھا کہ خودکشی کر لے گا تاکہ سارا جھنجھٹ ہی ختم ہو۔ اس غرض کے لیے اُس نے سات روز مزدوری کی اور دو تین روپے اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر جمع کیے۔ اُس کے بعد اس نے سوچا ‘ کون سا زہر ہو گا جو کارآمد ہو سکتا ہے۔ اُس نے صرف ایک ہی زہر کا نام سُنا تھا جو بڑا قاتل ہوتا ہے۔ سنکھیا مگر یہ سنکھیا کہاں سے ملتی؟ اُس نے بہت کوشش کی ‘ آخر اُسے ایک دکان سے سنکھیا مل گئی اس نے عشاء کی نماز پڑھی خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی کہ وہ ہلدی اور مرچوں میں ملاوٹ کرتا رہا‘ پھر رات کو سنکھیا کھائی اور فٹ پاتھ پر سو گیا۔ اُس نے سُنا تھا سنکھیا کھانے والوں کے منہ سے جھاگ نکلتے ہیں‘ تشنج کے دورے پڑتے ہیں ‘ بڑا کرب ہوتا ہے مگر اسے کچھ بھی نہ ہوا‘ ساری رات وہ اپنی موت کا انتظار کرتا رہا مگر وہ نہ آئی۔ صبح اُٹھ کر وہ اس دکاندار کے پاس گیا جس سے اس نے سنکھیا خریدی تھی اور اس سے پوچھا بھائی صاحب! یہ آپ نے مجھے کیسی سنکھیا دی ہے کہ میں ابھی تک نہیں مرا‘‘

دکاندار نے آہ بھر کے بڑے افسوسناک لہجے میں کہا :

’’کیا کہوں میرے بھائی۔ آج کل ہر چیز نقلی ہوتی ہے۔ یا اُس میں ملاوٹ ہوتی ہے‘‘

۱۹، مئی ۱۹۵۴ء

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • علامہ حسن رضابریلوی کی نعتیہ شاعری​
  • قلم
  • ایموجیز اور سیکسٹنگ
  • لنگرخانوں سے کارخانوں کا سفر!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
تماشا
پچھلی پوسٹ
مِصری کی ڈلی

متعلقہ پوسٹس

سیرت مصطفی ﷺ: دنیا کے لیے روشن راستہ

اگست 30, 2025

بھارت میں مدارس اسلامیہ کا مستقبل

جنوری 8, 2022

بیشک ۔ دُعا تقدیر کو بدل دیتی ہے

مئی 16, 2020

سیّد نذیر نیازی – بیاضِ یادداشت اور علامہ اقبالؒ!

دسمبر 29, 2021

توبۃ النصوح – فصل دوم

اکتوبر 28, 2020

مسجود ملائک اور درد دل

جنوری 30, 2022

ادب،ناول اور معاشرے کا باہم اتصال

جولائی 12, 2023

پرگتی

جنوری 24, 2020

شہزاد نیّر سے ایک مختصر مصاحبہ

اپریل 24, 2025

بوگس شناختی کارڈ

نومبر 13, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

معاشی بحران،تجاویز اورایک خواب

جولائی 23, 2022

امریکی موسیقار روڈ رگس

دسمبر 16, 2020

بدصورتی

جنوری 24, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں