خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابوگس شناختی کارڈ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزرحمت عزیز خان

بوگس شناختی کارڈ

از رحمت عزیز خان نومبر 13, 2025
از رحمت عزیز خان نومبر 13, 2025 0 تبصرے 53 مناظر
54

بوگس شناختی کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین
افغان مہاجرین کا مسئلہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ پیچیدہ اور طویل المیعاد انسانی و انتظامی چیلنجوں میں سے ایک رہا ہے۔ یہ معاملہ صرف سرحدی نقل مکانی یا پناہ گزینی تک محدود نہیں بلکہ اس نے پاکستان کے سماجی، معاشی، سکیورٹی اور شناختی نظام پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ حالیہ سرکاری اعلان میں کہا گیا ہے کہ بوگس شناختی کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کے خلاف یکم ستمبر 2025 سے عملی کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے، یہ حکم دراصل ایک تاریخی تسلسل کی کڑی ہے جو 1979ء کے افغان جہاد سے شروع ہو کر آج کے ڈیجیٹل شناختی عہد تک پہنچ چکی ہے۔

1979ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد لاکھوں افغان شہری ہجرت کر کے براستہ آرندو چترال اور براستہ چمن بارڈر پاکستان آئے۔ اس وقت کی حکومت نے انسانی ہمدردی کے تحت ان مہاجرین کو پناہ دی، مگر ان کی رجسٹریشن، قانونی حیثیت اور واپسی کے مؤثر منصوبے پر کبھی جامع حکمتِ عملی نہ بن سکی۔ وقت کے ساتھ افغان مہاجرین پاکستانی شہروں، دیہاتوں، کاروباروں اور حتیٰ کہ سرکاری محکموں میں بھی ضم ہوتے چلے گئے۔
1990ء کی دہائی میں جب نادرا کا قیام عمل میں آیا، تو شناختی نظام کو منظم کرنے کی کوشش کی گئی، مگر کرپشن اور کمزور نگرانی نے کئی افغان شہریوں کو جعلی پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے کا موقع دیا۔ سیاسی سرپرستی، رشوت اور سفارش نے اس عمل کو مزید خطرناک بنا دیا۔
آج نادرا کے ڈیٹا بیس میں ہزاروں ایسے ریکارڈ موجود ہیں جن میں افغان شہریوں نے خود کو پاکستانی ظاہر کیا ہوا ہے۔ ان میں سے بعض نے زمینیں خریدیں، کاروبار کیے اور کچھ نے سیاسی وابستگیاں بنا کر اثر و رسوخ حاصل کیا۔ رپورٹوں کے مطابق پشاور اور کوئٹہ جیسے علاقوں میں یہ رجحان سب سے زیادہ ہے، جہاں کئی افغان خاندانوں نے جعلی رشتہ داریوں (والد یا والدہ کا نام بدل کر) کے ذریعے شناختی کارڈ حاصل کیے۔
حکومت پاکستان نے اب جو فیصلہ کیا ہے، وہ نہ صرف ایک انتظامی قدم ہے بلکہ قومی سلامتی کے تناظر میں ایک فیصلہ کن مرحلہ بھی ہے۔ ایسے تمام افراد کے لیے پیغام واضح ہے کہ جعلی شناخت یا غیرقانونی رہائش اب برداشت نہیں کی جائے گی۔
حکومت پاکستان کا یہ اعلان کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اول یہ کہ کیا حکومت کے پاس وہ عملی صلاحیت موجود ہے کہ وہ لاکھوں مشتبہ ریکارڈز کو مکمل طور پر صاف کر سکے؟
دوم یہ کہ ان جعلی کارڈز کے اجراء میں ملوث نادرا کے سرکاری اہلکاروں اور سیاسی شخصیات کے خلاف بھی کیا واقعی کارروائی ہوگی؟
سوم یہ کہ اگر یہ افغان مہاجرین واپس بھیجے گئے تو کیا افغانستان کی موجودہ غیر مستحکم صورت حال انہیں قبول کرنے کی پوزیشن میں ہے؟
ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ کئی افغان خاندان اب دوسری اور تیسری نسل میں پاکستان میں پیدا ہو چکے ہیں۔ ان کی سماجی و ثقافتی وابستگیاں پاکستانی معاشرے کے ساتھ جڑ چکی ہیں۔ ان کے لیے "ملک بدر” ہونا محض قانونی نہیں بلکہ انسانی المیہ بھی بن سکتا ہے۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ ریاست نے کئی دہائیوں تک اس مسئلے کو سیاسی مصلحتوں، انسانی ہمدردی اور وقتی انتظامات کے درمیان دبائے رکھا۔ اب جبکہ صورتحال ایک بحرانی شکل اختیار کر چکی ہے، حکومت کو سخت فیصلے لینے پڑ رہے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف افغان مہاجرین کو قصوروار ٹھہرانا انصاف ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ بوگس شناختی کارڈ کے اجراء میں ملوث نادرا اہلکار، بااثر سیاسی رہنما اور مافیا طرز کے دلال اصل ذمہ دار ہیں جنہوں نے چند ہزار روپے کے بدلے ریاستی سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔ اگر ان کے خلاف شفاف اور غیرجانبدار کارروائی نہیں کی گئی تو یہ مہم بھی محض ایک وقتی دعویٰ بن کر رہ جائے گی۔
پاکستان کی ریاست کے لیے اب یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ جعلی شناخت کا خاتمہ صرف افغان مہاجرین کے اخراج سے ممکن نہیں بلکہ پورے نظام کی اصلاح سے وابستہ ہے۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو اسے دو سطحوں پر کام کرنا ہوگا جن میں سرفہرست قانونی و انتظامی سطح ہے۔ نادرا، ایف آئی اے اور داخلہ اداروں کو بااختیار بنا کر ملوث اہلکاروں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے۔
ان افغان خاندانوں کے لیے باعزت واپسی اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے بحالی کا پروگرام شروع کیا جائے۔
پاکستان کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ اپنے شناختی اور سلامتی کے ڈھانچے کو شفاف، مضبوط اور انسانی اصولوں کے مطابق بنائے۔ افغان مہاجرین کے بوگس شناختی کارڈ کا معاملہ دراصل ایک بڑے ریاستی امتحان کی علامت ہے جہاں قانون، انصاف اور انسانیت تینوں کا توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  •  لالہ جی​
  • گناہوں سے دور نہیں ہیں
  • محبت کے نہ اب ایثار کے ہیں
  • بن کے رستہ آرزو میں رہ گئے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
رحمت عزیز خان

اگلی پوسٹ
تُمہارے نام لگا دی ہیں
پچھلی پوسٹ
کیڈٹ کالج وانا

متعلقہ پوسٹس

درد دل کی دوا نہیں کرتے

اکتوبر 16, 2025

ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا

مارچ 11, 2026

تخلیقی پناہ گاہ

دسمبر 10, 2024

کھدر کا کفن

جنوری 22, 2020

معاصر اُردو غزل کا نمایندہ شاعر- ارشاد نیازی

جنوری 15, 2021

سیڑھیوں والا پُل

مارچ 20, 2020

اشفاق احمد اور اُردو ادب

اکتوبر 15, 2025

ڈیجیٹل نسل اور اُردو زبان

اگست 20, 2025

تمام ہجر زدوں کا امام کر کے مجھے

نومبر 9, 2025

تم سے ملنا دوبارہ ہوگا نہیں

مئی 29, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پرواز کے بعد

جنوری 3, 2020

آدھے چہرے

جنوری 17, 2020

استخارہ

مارچ 15, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں