خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابوگس شناختی کارڈ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزرحمت عزیز خان

بوگس شناختی کارڈ

از رحمت عزیز خان نومبر 13, 2025
از رحمت عزیز خان نومبر 13, 2025 0 تبصرے 98 مناظر
99

بوگس شناختی کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین
افغان مہاجرین کا مسئلہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ پیچیدہ اور طویل المیعاد انسانی و انتظامی چیلنجوں میں سے ایک رہا ہے۔ یہ معاملہ صرف سرحدی نقل مکانی یا پناہ گزینی تک محدود نہیں بلکہ اس نے پاکستان کے سماجی، معاشی، سکیورٹی اور شناختی نظام پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ حالیہ سرکاری اعلان میں کہا گیا ہے کہ بوگس شناختی کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کے خلاف یکم ستمبر 2025 سے عملی کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے، یہ حکم دراصل ایک تاریخی تسلسل کی کڑی ہے جو 1979ء کے افغان جہاد سے شروع ہو کر آج کے ڈیجیٹل شناختی عہد تک پہنچ چکی ہے۔

1979ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد لاکھوں افغان شہری ہجرت کر کے براستہ آرندو چترال اور براستہ چمن بارڈر پاکستان آئے۔ اس وقت کی حکومت نے انسانی ہمدردی کے تحت ان مہاجرین کو پناہ دی، مگر ان کی رجسٹریشن، قانونی حیثیت اور واپسی کے مؤثر منصوبے پر کبھی جامع حکمتِ عملی نہ بن سکی۔ وقت کے ساتھ افغان مہاجرین پاکستانی شہروں، دیہاتوں، کاروباروں اور حتیٰ کہ سرکاری محکموں میں بھی ضم ہوتے چلے گئے۔
1990ء کی دہائی میں جب نادرا کا قیام عمل میں آیا، تو شناختی نظام کو منظم کرنے کی کوشش کی گئی، مگر کرپشن اور کمزور نگرانی نے کئی افغان شہریوں کو جعلی پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے کا موقع دیا۔ سیاسی سرپرستی، رشوت اور سفارش نے اس عمل کو مزید خطرناک بنا دیا۔
آج نادرا کے ڈیٹا بیس میں ہزاروں ایسے ریکارڈ موجود ہیں جن میں افغان شہریوں نے خود کو پاکستانی ظاہر کیا ہوا ہے۔ ان میں سے بعض نے زمینیں خریدیں، کاروبار کیے اور کچھ نے سیاسی وابستگیاں بنا کر اثر و رسوخ حاصل کیا۔ رپورٹوں کے مطابق پشاور اور کوئٹہ جیسے علاقوں میں یہ رجحان سب سے زیادہ ہے، جہاں کئی افغان خاندانوں نے جعلی رشتہ داریوں (والد یا والدہ کا نام بدل کر) کے ذریعے شناختی کارڈ حاصل کیے۔
حکومت پاکستان نے اب جو فیصلہ کیا ہے، وہ نہ صرف ایک انتظامی قدم ہے بلکہ قومی سلامتی کے تناظر میں ایک فیصلہ کن مرحلہ بھی ہے۔ ایسے تمام افراد کے لیے پیغام واضح ہے کہ جعلی شناخت یا غیرقانونی رہائش اب برداشت نہیں کی جائے گی۔
حکومت پاکستان کا یہ اعلان کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اول یہ کہ کیا حکومت کے پاس وہ عملی صلاحیت موجود ہے کہ وہ لاکھوں مشتبہ ریکارڈز کو مکمل طور پر صاف کر سکے؟
دوم یہ کہ ان جعلی کارڈز کے اجراء میں ملوث نادرا کے سرکاری اہلکاروں اور سیاسی شخصیات کے خلاف بھی کیا واقعی کارروائی ہوگی؟
سوم یہ کہ اگر یہ افغان مہاجرین واپس بھیجے گئے تو کیا افغانستان کی موجودہ غیر مستحکم صورت حال انہیں قبول کرنے کی پوزیشن میں ہے؟
ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ کئی افغان خاندان اب دوسری اور تیسری نسل میں پاکستان میں پیدا ہو چکے ہیں۔ ان کی سماجی و ثقافتی وابستگیاں پاکستانی معاشرے کے ساتھ جڑ چکی ہیں۔ ان کے لیے "ملک بدر” ہونا محض قانونی نہیں بلکہ انسانی المیہ بھی بن سکتا ہے۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ ریاست نے کئی دہائیوں تک اس مسئلے کو سیاسی مصلحتوں، انسانی ہمدردی اور وقتی انتظامات کے درمیان دبائے رکھا۔ اب جبکہ صورتحال ایک بحرانی شکل اختیار کر چکی ہے، حکومت کو سخت فیصلے لینے پڑ رہے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف افغان مہاجرین کو قصوروار ٹھہرانا انصاف ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ بوگس شناختی کارڈ کے اجراء میں ملوث نادرا اہلکار، بااثر سیاسی رہنما اور مافیا طرز کے دلال اصل ذمہ دار ہیں جنہوں نے چند ہزار روپے کے بدلے ریاستی سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔ اگر ان کے خلاف شفاف اور غیرجانبدار کارروائی نہیں کی گئی تو یہ مہم بھی محض ایک وقتی دعویٰ بن کر رہ جائے گی۔
پاکستان کی ریاست کے لیے اب یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ جعلی شناخت کا خاتمہ صرف افغان مہاجرین کے اخراج سے ممکن نہیں بلکہ پورے نظام کی اصلاح سے وابستہ ہے۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو اسے دو سطحوں پر کام کرنا ہوگا جن میں سرفہرست قانونی و انتظامی سطح ہے۔ نادرا، ایف آئی اے اور داخلہ اداروں کو بااختیار بنا کر ملوث اہلکاروں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے۔
ان افغان خاندانوں کے لیے باعزت واپسی اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے بحالی کا پروگرام شروع کیا جائے۔
پاکستان کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ اپنے شناختی اور سلامتی کے ڈھانچے کو شفاف، مضبوط اور انسانی اصولوں کے مطابق بنائے۔ افغان مہاجرین کے بوگس شناختی کارڈ کا معاملہ دراصل ایک بڑے ریاستی امتحان کی علامت ہے جہاں قانون، انصاف اور انسانیت تینوں کا توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پکھی واس عورتیں
  • وجدان کا نکاح
  • دورِ حاضر اور ایمانِ مسلم
  • افسانہ 1919 کی ایک بات
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
رحمت عزیز خان

اگلی پوسٹ
تُمہارے نام لگا دی ہیں
پچھلی پوسٹ
کیڈٹ کالج وانا

متعلقہ پوسٹس

سازشوں کی زد میں !

مئی 9, 2020

اظہارِ نعت

ستمبر 20, 2026

یہاں کچھ پھول رکھے ہیں

دسمبر 15, 2019

جنگل میں مور

جنوری 13, 2024

فضول بحث۔۔۔خطرۂ ایمان

ستمبر 17, 2020

وہ میری بانہوں میں زندہ ہو گیا

مارچ 29, 2025

آئینۂ ذات

جون 1, 2025

دل کے جذبات کو سستا

اکتوبر 7, 2025

تین میں، نہ تیرہ میں

جنوری 13, 2020

عالمی امن اسرائیلی خواہشات سے مشروط

مئی 7, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سیلاب کے زخم اور کیمروں کا...

ستمبر 4, 2025

مشکل اک اک گام ہوا ہے

اکتوبر 12, 2025

اس قدر خوابی ء تقدیر نہیں...

فروری 13, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں