339
قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں
کتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں
کون سی آنکھوں میں میرے خواب روشن ہیں ابھی
کس کی نیندیں ہیں جو میرے رتجگوں میں قید ہیں
شہر آبادی سے خالی ہو گئے خوشبو سے پھول
اور کتنی خواہشیں ہیں جو دلوں میں قید ہیں
پاؤں میں رشتوں کی زنجیریں ہیں دل میں خوف کی
ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں قید ہیں
یہ زمیں یوں ہی سکڑتی جائے گی اور ایک دن
پھیل جائیں گے جو طوفاں ساحلوں میں قید ہیں
اس جزیرے پر ازل سے خاک اڑتی ہے ہوا
منزلوں کے بھید پھر بھی راستوں میں قید ہیں
کون یہ پاتال سے ابھرا کنارے پر سلیمؔ
سرپھری موجیں ابھی تک دائروں میں قید ہیں
سلیم کوثر
