398
دل مبتلائے ہجر رفاقت میں رہ گیا
لگتا ہے کوئی فرق محبت میں رہ گیا
اس گھر کے دو مکین تھے اک پیڑ اور میں
یہ ہجر تو کسی کی شرارت میں رہ گیا
اک بار منع کرتی ہوئی شام سے تو پوچھ
جو بھی جدا ہوا وہ حقیقت میں رہ گیا
ممکن تھا تجھ کو چھین ہی لیتا جہان سے
لیکن میں کیا کروں میں محبت میں رہ گیا
اب تو ہی میری خالی ہتھیلی کی لاج رکھ
مجھ سے تو کوئی فرق عبادت میں رہ گیا
تجھ پر ہے کوئی زعم نہ خود پر یقیں ندیمؔ
کچھ دن کا ہم میں عشق تو عادت میں رہ گیا
