976
کمال ضبط کا یہ آخری ہنر بھی گیا
میں آج ٹوٹ کے رویا اور اس کے گھر بھی گیا
یہ دکھ ہے اس کا کوئی ایک ڈھب تو ہوتا نہیں
ابھی امڈ ہی رہا تھا کہ جی ٹھہر بھی گیا
عجیب غم تھا قبیلے کے حرف کار کا غم
کہ بے ثمر بھی گیا لفظ ، بے اثر بھی گیا
یہ ایک پل ، یہ مرا دل ، یہ زرد رنگ کا پھول
ابھی کھلا بھی نہیں تھا ، ابھی بکھر بھی گیا
یہ دشت زاد بگولا ، یہ رقص خو درویش
اگر میں ٹھیر گیا تو یہ ہم سفر بھی گیا
سعود عثمانی
