570
گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتے
کرتے ہیں بہت لوگ مگر ہم نہیں کرتے
ہے اپنی طبعیت میں جو خامی تو یہی ہے
ہم عشق تو کرتے ہیں مگر کم نہیں کرتے
نفرت سے تو بہتر ہے کہ رستے ہی جدا ہوں
بے کار گزر گاہوں کو باہم نہیں کرتے
ہر سانس میں دوزخ کی تپش سی ہے مگر ہم
سورج کی طرح آگ کو مدھم نہیں کرتے
کیا علم کہ روتے ہوں تو مر جاتے ہوں فیصل
وہ لوگ جو آنکھوں کو کبھی نم نہیں کرتے
فیصل عجمی
