678
تجھے کیا ناصحا احباب خود سمجھائے جاتے ہیں
ادھر تو کھائے جاتا ہے ادھر وہ کھائے جاتے ہیں
چمن والوں سے جا کر اے نسیمِ صبح کہہ دینا
اسیرانِ قفس کے آج پر کٹوائے جاتے ہیں
کہیں بیڑی اٹکتی ہے کہیں زنجیر الجھتی ہے
بڑی مشکل سے دیوانے ترے دفنائے جاتے ہیں
انہیں غیروں کے گھر دیکھا ہے اور انکار ہے ان کو
میں باتیں پی رہا ہوں اور وہ قسمیں کھائے جاتے ہیں
خدا محفوظ رکھے نالہ ہائے شام فرقت سے
زمیں بھی کانپتی ہے آسماں تھرائے جاتے ہیں
کوئی دم اشک تھمتے ہی نہیں ایسا بھی کیا رونا
قمر دو چار دن کی بات ہے وہ آئے جاتے ہیں
قمر جلال آبادی
