573
قصہ گو
وہی قصہ گو
جو اک روز قصہ سناتے سناتے
کسی پیاس کو یاد کرتا ہوا،
اٹھ گیا تھا
پھر اک روز لوگوں سے یہ بھی سنا تھا
کہ وہ،
پیاس ہی پیاس کی رٹ لگاتا ہوا
اک کنویں میں گرا تھا
ادھر کچھ دنوں سے
یہ افواہ گردش میں ہے
کہ وہ قصہ گو
جسے بھی دکھائی دیا ہے
وہ بس
پیاس ہی پیاس کی رٹ لگاتا ہوا
کنویں کی طرف جا رہا ہے
آشفتہ چنگیزی
