411
قبلہ عارف امام کی زمین میں اشعار انہی کے نام
دل پہ دستک عجب گزرتی ہے
جب دبے پاؤں شب گزرتی ہے
ہاں گزرتی تھی پہلے پٹڑی پر
ریل سینے پہ اب گزرتی ہے
تم اذیت جسے سمجھتے ہو
جسم و جاں پر وہ سب گزرتی ہے
آنکھ کرتی ہے خواب کا ماتم
نیند ڈھا کر غضب گزرتی ہے
تیرگی سے کلام کرتے ہوئے
روشنی بے سبب گزرتی ہے
پھول کھلتے ہیں اس کے آنے پر
میں نہ پوچھوں گا کب گزرتی ہے؟
رنج اٹھاتے ہیں کچھ چراغ ارشاد
جب ہوا بے نسب گزرتی ہے
ارشاد نیازی
