2
مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے
وہ دیکھتے تھے مری سمت، مسکرا رہے تھے
برائے شعر بہت قافیے ملا رہے تھے
فصیح آپ تخیّل سے مات کھا رہے تھے
چھپا لیا ہے جنھیں اوٹ میں گھٹاؤں نے
وہی ستارے مجھے راستہ دکھا رہے تھے
یہ اور بات کہ منزل سبھی کی ایک ہی تھی
تمام لوگ جدا راستوں پہ جا رہے تھے
انھیں کچھ اپنے ستاروں پہ اختیار نہ تھا
وہ دوسروں کے مگر زائچے بنا رہے تھے
نگاہِ حسن تو مضمون لکھ کے لے آئی
جنابِ عشق ابھی حاشیے لگا رہے تھے
یہ اور بات ہوائیں موافقت میں نہ تھیں
درونِ خواب مگر ہم پتنگ اڑا رہے تھے
شاہین فصیح ربانی
