خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامصمود فلوٹیلا
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

صمود فلوٹیلا

از سائیٹ ایڈمن جون 5, 2026
از سائیٹ ایڈمن جون 5, 2026 0 تبصرے 1 مناظر
2

صمود فلوٹیلا: عالمی بے حسی کے سائے میں انسانیت کا قتلِ عام

بین الاقوامی پانیوں میں ‘گلوبل صمود فلوٹیلا’ پر ہونے والی وحشیانہ یلغار اور اس کے بعد دنیا بھر سے آئے پرامن سفیرانِ انسانیت پر ڈھائے جانے والے مظالم نے عصرِ حاضر کے عالمی نظام کے اخلاقی دیوالیہ پن پر حتمی مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ یہ سانحہ محض کسی عسکری حد سے تجاوز یا قزاقی کا عام واقعہ نہیں، بلکہ یہ اس تاریک عہد کا نقطۂ آغاز ہے جہاں بین الاقوامی قوانین کی بساط کو طاقت کے نشے میں چور قوتوں نے یکسر الٹ کر رکھ دیا ہے۔ ایک ایسی سسکتی ہوئی محصور آبادی کے لیے، جو بنیادی طبی سامان اور معصوم بچوں کے دودھ کی بوند بوند کو ترس رہی ہو، جب یہ امدادی کارواں سمندری لہروں کو چیرتا ہوا آگے بڑھا تو اس کا راستہ روکنے کے لیے وہ ریاستی مشینری پوری فرعونیت کے ساتھ متحرک ہو گئی جو خود کو تمام تر زمینی ضابطوں اور انسانی اقدار سے بالاتر سمجھتی ہے۔ اس تاریخی قافلے میں شامل ڈاکٹر، دانشور، بین الاقوامی صحافی اور کٹھن حالات کے آزمودہ امدادی کارکن، جن کا تعلق دنیا کے درجنوں مختلف ممالک سے تھا، جب اس جبر کا شکار ہوئے تو ان کے ساتھ حراستی مراکز میں کی جانے والی درندگی نے ظلم کی نئی تاریخ رقم کی۔ رپورٹس گواہ ہیں کہ ان نہتے انسانوں کو بدترین جسمانی اذیتوں سے گزارا گیا، نہایت قریب سے ربڑ کی گولیاں مار کر ان کی ہڈیاں توڑی گئیں اور تنہائی کے تاریک خلیوں میں رکھ کر ان کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا گیا۔ لیکن اس پورے المیے کا سب سے بڑا المیہ وہ بہیمانہ تشدد نہیں، بلکہ انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والے عالمی اداروں اور مصلحت پسند طاقتوں کی وہ مجرمانہ خاموشی اور دانستہ چشم پوشی ہے جو اس درندگی کو مسلسل تحفظ فراہم کر رہی ہے۔

یہ منظم خاموشی دنیا کو ایک انتہائی ہولناک اور تاریک سچائی کی طرف لے جا رہی ہے، یعنی عالمی برادری کا ایک ایسے انتہا پسندانہ نظریاتی اور جغرافیائی توسیع پسندی کے سامنے بلا چون و چرا گھٹنے ٹیک دینا، جس کی بنیاد ہی انسانیت کی نسلی تفریق پر قائم ہے۔ اس وحشیانہ رویے کے پیچھے ایک مخصوص، خود ساختہ بالادستی کا الہیاتی اور سیاسی فریم ورک کارفرما ہے، جس کے تحت مخصوص فاشسٹ حلقے غیر یہودیوں کو انسانوں کا ایک ادنیٰ اور کمتر درجہ دیتے ہیں۔ یہ سوچ دنیا کی باقی تمام آبادی کو ثانوی درجے پر کھڑا کرتی ہے، جہاں ان کی نظر میں اپنے تزویراتی مقاصد اور علاقائی ہوس کے سامنے جنیوا کنونشنز اور دوسرے خود مختار ممالک کے قوانین کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ جب بین الاقوامی امدادی کارکنوں اور سفید پوش طبی عملے کو غیر جانبدار سفیروں کے بجائے جنگی ہدف بنا کر پیش کیا جائے، تو یہ اس امر کا کھلا اشتہار ہے کہ ان کے نزدیک اپنی زمین کی توسیع کا خبط دنیا کے تمام انسانی معاہدوں سے بڑا ہے۔ جب ایک فاشسٹ وزیر سوشل میڈیا پر بے بس امدادی کارکنوں کو زمین پر اوندھے منہ لٹائے جانے کی ویڈیوز فخر سے شیئر کرتا ہے، تو وہ دراصل پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کے عالمی احتساب اور ضابطے سے آزاد ہو چکے ہیں۔

دوسری طرف، اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں کا کردار اب محض ایک دفتری تماشے اور منافقت سے بڑھ کر کچھ نہیں رہا۔ سلامتی کونسل کا ڈھانچہ اس طرح مفلوج کیا جا چکا ہے جہاں ایک بڑی سپر پاور کا ‘ویٹو’ ہمیشہ ریاستی دہشت گردی کا دفاع کرنے کے لیے تیار ملتا ہے، جس کی وجہ سے یہ نام نہاد عالمی فورم محض کھوکھلے بیانات جاری کرنے اور ‘شدید تشویش’ کا روایتی ملبہ اٹھانے تک محدود ہو چکا ہے۔ کھلے سمندروں پر کھلم کھلا ریاستی قزاقی ہوتی ہے، مگر عالمی برادری کے تمام انصاری میکانزم منجمد نظر آتے ہیں۔ دنیا نے عملاً اس جارحانہ صیہونی نظریے کے سامنے مکمل طور پر ہتھیار ڈال دیے ہیں جسے مغربی دارالحکومتوں سے نہ صرف مسلسل مادی و عسکری کمک ملتی ہے بلکہ ہر فورم پر سفارتی ڈھال بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اس شترِ بے مہار کو حاصل کھلی چھوٹ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد بننے والے عالمی ڈھانچے کی رہی سہی ساکھ کو بھی مٹی میں ملا دیا ہے۔ جب دنیا اس بات پر خاموش مہر لگا دیتی ہے کہ آسٹریلیا، اٹلی، پاکستان، برازیل یا جرمنی کے پرامن شہریوں کو محض انسانیت کا درد جاگنے کے جرم میں اغوا کیا جائے اور ان کی تذلیل کی جائے، تو گویا اب دنیا میں بھوک مٹانے اور مرہم رکھنے کا راستہ بھی قانونی طور پر بلاک سمجھا جائے۔

اس بھیانک منظرنامے میں مسلم دنیا اور او آئی سی جیسے روایتی اداروں کا رویہ بھی شدید مایوس کن اور مجرمانہ مصلحت پسندی کا شاہکار رہا ہے۔ اگرچہ ان ممالک کے عوام کے دلوں میں اپنے مظلوم بھائیوں کے لیے شدید تڑپ اور غصہ موجود ہے، لیکن ان کے مقتدر حلقے مغربی طاقتوں کے ساتھ اپنے تزویراتی مفادات، معاشی بیساکھیوں اور سفارتی نیٹ ورکس کے جال میں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ ان کے لبوں پر قفل لگ چکے ہیں۔ بعض علاقائی حکومتیں اس قسم کی عوامی اور آزاد امدادی تحریکوں کو اپنے لیے ایک پوشیدہ خطرے کے طور پر دیکھتی ہیں، کیونکہ انہیں خوف ہوتا ہے کہ اگر عوام کی سطح پر بیداری اور حقِ خودارادیت کا یہ جذبہ سراہا گیا تو یہ چنگاری کل کو خود ان کے اپنے بچھائے ہوئے شاہی اور آمرانہ اقتدار کے تختوں کو بھی الٹ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کا سرکاری ردعمل ہمیشہ تاخیر سے آنے والے بے اثر مشترکہ اعلامیوں تک محدود رہتا ہے۔ یہاں تک کہ زمینی راستوں سے جانے والے امدادی قافلوں کو بھی علاقائی سیاست اور سرحدوں کی نام نہاد بندش کے نام پر روک دیا جاتا ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان حکمرانوں کے نزدیک مظلوموں کی پکار پر لبیک کہنے کے بجائے ہمیشہ اپنے اقتدار کی بقا اور باہمی رنجشیں اولویت رکھتی ہیں۔

عالمی اداروں اور مقتدر حکومتوں کے اس مکمل اور تاریخی ناکامی کے بعد، اب یہ بھاری اخلاقی ذمہ داری دنیا کے عام شہریوں اور بیدار مغز سماج پر عائد ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب حکومتیں اور ان کے قوانین انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو جائیں، تو عوام کی طرف سے بائیکاٹ، سرمایہ کاری کی واپسی اور پابندیوں کی منظم مہمات ہی وہ واحد ہتھیار بچتی ہیں جو ظلم کے ان آہنی ستونوں کو پگھلا کر رکھ سکتی ہیں۔ جب دنیا بھر کے صارفین شعوری طور پر ایسی مصنوعات اور اداروں کا بائیکاٹ کرتے ہیں جو اس ریاستی جبر کی پشت پناہی کر رہے ہیں، تو وہ براہ راست اس معاشی اور نظریاتی لائف لائن پر کاری ضرب لگاتے ہیں جس کے بلبوتے پر یہ وحشت پل رہی ہے۔ کوئی بھی ظالم حکومت، چاہے وہ کتنے ہی جدید ہتھیاروں سے لیس کیوں نہ ہو، طویل عرصے تک دنیا کے مکمل سماجی اور معاشی بائیکاٹ کا سامنا نہیں کر سکتی۔ جب تک عالمی برادری اس مجرمانہ بے حسی کو جھٹک کر انسانی وقار کے لیے کوئی یکساں معیار قائم نہیں کرتی، تب تک کھلے سمندروں پر اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر نکلنے والے ‘صمود فلوٹیلا’ کے ان جانبازوں کا جذبہ اور استقامت ہی اس تاریک دور میں انسانیت کا آخری محاذ رہے گا۔ ورنہ متبادل کے طور پر ہم ایک ایسی بھیانک دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں کسی مجبور کو روٹی دینا بھی جرم بن جائے گا اور ظالم کو ابدی لعنت اور ملامت کے سوا دنیا کی کسی عدالت سے کوئی سزا نہیں مل پائے گی۔

پروفیسر اکرم ثاقب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دیساں دا راجا، میرے بابل دا پیارا
  • تشنہ لبی میں گزری ہے یہ زندگی بہت
  • مہتاب خاں
  • بجلی پہلوان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
گھر کی اصل طاقت
پچھلی پوسٹ
چھوٹی چھوٹی مگر اہم باتیں

متعلقہ پوسٹس

ننگی آوازیں

جنوری 12, 2020

اب پرندوں میں ڈر ہے خون نہیں

مارچ 22, 2026

کتھا سرکس

جون 15, 2020

ایسا عجیب غصہ تھا کہ آ گ لگ گئی

دسمبر 12, 2025

جالِ عنکبوت

دسمبر 22, 2024

عمیرہ احمد

مارچ 22, 2025

فطرت کے بھکاری

اپریل 14, 2020

مصالحے اور صحت

جون 15, 2025

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

اکتوبر 10, 2025

حکیم جی

مارچ 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • خوش مزاجی اور حضور ﷺ

    جون 22, 2026
  • شہباز خواجہ شاعری

    جون 22, 2026
  • ماتم

    جون 22, 2026
  • ہجر

    جون 22, 2026
  • جستجو

    جون 22, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

شہباز خواجہ شاعری

جون 22, 2026

ماتم

جون 22, 2026

ہجر

جون 22, 2026

جستجو

جون 22, 2026

واپسی

جون 22, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

21 شہادتیں اور ایک قوم کی آنکھوں میں...

جون 13, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • خوش مزاجی اور حضور ﷺ

    جون 22, 2026
  • شہباز خواجہ شاعری

    جون 22, 2026
  • ماتم

    جون 22, 2026
  • ہجر

    جون 22, 2026
  • جستجو

    جون 22, 2026
  • واپسی

    جون 22, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

منتشر کرنے والا شاعر

ستمبر 15, 2016

تقدیرِ رنگین

جنوری 8, 2025

قدموں کا سفر

دسمبر 22, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں