خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکتاب «المتلذذون بالعلم»
آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

از سائیٹ ایڈمن جون 2, 2026
از سائیٹ ایڈمن جون 2, 2026 0 تبصرے 2 مناظر
3

ستتر علما جنہوں نے بعض مخصوص کتابوں کو سیکڑوں مرتبہ دہرایا!

کتاب «المتلذذون بالعلم» کی ایک حیرت انگیز فہرست:

علم صرف مطالعہ کا نام نہیں، بلکہ تکرار، مراجعت اور مسلسل وابستگی کا نام ہے۔
ہمارے اسلافِ امت نے کتابوں کو صرف ایک بار پڑھ کر چھوڑ نہیں دیا، بلکہ بار بار ان کا اعادہ کیا، یہاں تک کہ بعض اکابر نے ایک ہی کتاب کو سینکڑوں مرتبہ پڑھا۔ یہی مسلسل تکرار اُن کے علم کے رسوخ، فہم کی گہرائی اور حافظے کی مضبوطی کا سبب بنی۔

ذیل میں اُن جلیل القدر علماء و ائمہ کی ایک حیرت انگیز فہرست پیش کی جا رہی ہے، جنہوں نے مختلف علمی کتابوں کو بارہا پڑھ کر یہ ثابت کیا کہ علم میں پختگی کا راستہ “تکرار” اور “استقامت” سے ہو کر گزرتا ہے۔

ابنِ ہشام نے «الفیہ ابن مالک» ایک ہزار مرتبہ پڑھی۔
غالب بن عطیہ المحاربی نے «صحیح بخاری» سات سو مرتبہ پڑھی۔
ابو بکر الابہری (متوفی 375ھ) نے «مختصر ابن عبد الحکم» پانچ سو مرتبہ دہرائی۔
امام نووی نے غزالی کی «الوسیط» چار سو مرتبہ پڑھی۔
ابو سعید البردعی نے محمد بن حسن کی «الجامع الکبیر» چار سو مرتبہ پڑھی۔
سلیمان العلوی الیمنی نے «صحیح بخاری» دو سو اسی مرتبہ پڑھی۔
ابن البطی البغدادی نے «جزء البانیاسی» دو سو مرتبہ دہرایا۔
نفیس الدین العلوی (متوفی 825ھ) نے «صحیح بخاری» ایک سو پچاس مرتبہ پڑھی۔
المُسنِد مساعد بشیر نے «صحیح بخاری» ایک سو تیس مرتبہ پڑھی۔
اصیل الدین الہروی نے «صحیح بخاری» ایک سو بیس مرتبہ پڑھی۔
احمد العلاونہ نے زرکلی کی «الأعلام» ایک سو مرتبہ پڑھی۔
شیخ عبد اللہ بن عقیل نے «تفسیر الإیجی» ایک سو مرتبہ دہرائی۔
شیخ حماد الانصاری نے ذہبی کی «میزان الاعتدال» ایک سو مرتبہ پڑھی۔
شیخ ابو اسحاق الحوینی نے ابن ابی حاتم کی «العلل» ایک سو مرتبہ پڑھی۔
محمد بن مقبل التاجر نے «صحیح بخاری» پچانوے مرتبہ پڑھی۔
شیخ ابو اسحاق الحوینی نے «مذکرات الشاذلی فی حرب أكتوبر» نوے مرتبہ پڑھی۔
ابن عطیف (متوفی 886ھ) نے «الکافی» اسی مرتبہ دہرائی۔
علی الکریدی (متوفی 886ھ) نے «الکافی» اسی مرتبہ پڑھی۔
ایک عالم نے «الأسدیة» پچھتر مرتبہ پڑھی۔
المزنی نے امام شافعی کی «الرسالة» ستر مرتبہ پڑھی۔
ابن محرز الأبناسی نے «التوضیح» ستر مرتبہ دہرائی۔
شیخ ابو اسحاق الحوینی نے معلمی کی «التنکیل» ستر مرتبہ پڑھی اور اپنے ہاتھ سے نقل بھی کی۔
الحجار ابن الشحنة نے «صحیح بخاری» ستر مرتبہ پڑھی۔
امام ابن باز نے نووی کی «شرح صحیح مسلم» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
ابن الرفاء الشافعی نے «جزء ابن عرفة» ساٹھ مرتبہ پڑھا۔
محمد الجمنی (متوفی 1170ھ) نے «مختصر خلیل» ساٹھ مرتبہ دہرائی۔
ابو سعید الحلی نے «مقامات الحریری» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
برہان الدین الحلبی نے «صحیح بخاری» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
ابن الکلوتاتی (متوفی 835ھ) نے «صحیح بخاری» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
الکرمانی نے «صحیح بخاری» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
سبط ابن العجمی نے «صحیح بخاری» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
موسیٰ بن سعادة (متوفی 514ھ) نے «صحیح بخاری» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
عبد الغنی عبد الخالق نے امام شافعی کی «الرسالة» پچاس مرتبہ پڑھی۔
علی بن عبد الرحمن الحسینی نے غزالی کی «إحياء علوم الدين» پچاس مرتبہ پڑھی۔
عبد اللہ اللغبی العبدلی نے «تهذيب سيرة ابن هشام» پچاس مرتبہ پڑھی۔
شیخ ولید السعیدان نے «الروض المربع» انچاس مرتبہ دہرائی۔
ابن عساکر القوصی نے غزالی کی «الوسیط» اڑتالیس مرتبہ پڑھی۔
ابو بکر الابہری نے امام مالک کی «الموطأ» پینتالیس مرتبہ پڑھی۔
امام ابن باز نے ابن القیم کی «أعلام الموقعين» چالیس مرتبہ پڑھی۔
عبد الرحمن العیدروس (متوفی 923ھ) نے غزالی کی «إحياء علوم الدين» چالیس مرتبہ پڑھی۔
علی السالم آل جلیـدان نے «الروض المربع» چالیس مرتبہ پڑھی۔
شیخ مشہور حسن سلمان نے ابن القیم کی «أعلام الموقعين» تیس مرتبہ پڑھی۔
ابن السراج السجلماسی (متوفی 1057ھ) نے «تفسير الكشاف» تیس مرتبہ پڑھا۔
ادیب علی الطنطاوی نے «الفرج بعد الشدة» تیس مرتبہ پڑھی۔
ادیب علی الطنطاوی نے منفلوطی کی «النظرات» تیس مرتبہ پڑھی۔
الربیع بن سلیمان نے امام شافعی کی «الرسالة» تیس سے زائد مرتبہ پڑھی۔
عبد الرحمن بن علی الحسینی نے غزالی کی «إحياء علوم الدين» پچیس مرتبہ پڑھی۔
ابن العجمی الکلبی نے شیرازی کی «المهذب» پچیس مرتبہ پڑھی۔
ابن عیسیٰ الأندلسی نے «كتاب سيبويه» چوبیس مرتبہ پڑھا۔
شیخ ابو اسحاق الحوینی نے ذہبی کی «سير أعلام النبلاء» چوبیس مرتبہ پڑھی۔
فقیہِ عراق الزریرانی نے ابن قدامہ کی «المغني» تیئس مرتبہ پڑھی، اور ہر نسخے پر حاشیہ بھی لکھا۔
شیخ حماد الانصاری نے ابن حجر کی «فتح الباري» بیس مرتبہ پڑھی۔
المرغینانی (متوفی 593ھ) نے «الهداية» اٹھارہ مرتبہ پڑھی۔
احمد معبد نے ابن حجر کی «فتح الباري» اٹھارہ مرتبہ پڑھی۔
احمد بن محمد الہادی (متوفی 1045ھ) نے غزالی کی «إحياء علوم الدين» چودہ مرتبہ پڑھی۔
شیخ عبد العزیز بن مقیرن نے «تفسير ابن كثير» دس مرتبہ پڑھی۔
محمد الغیثی التباعی نے شیرازی کی «المهذب» نو مرتبہ پڑھی۔
احمد حطیبہ نے ابن قدامہ کی «المغني» آٹھ مرتبہ پڑھی۔
شیخ صالح اللحیدان نے اصفہانی کی «الأغاني» سات مرتبہ پڑھی۔
شیخ عبد السلام ہارون نے جاحظ کی «الحيوان» سات مرتبہ پڑھی۔
امام ابن باز نے ابن کثیر کی «البداية والنهاية» سات مرتبہ پڑھی۔
شیخ عبد اللہ بن سعدان نے «البداية والنهاية» سات مرتبہ پڑھی۔
شیخ عبد الكريم الخضير نے احمد امین کی «حياتي» چھ مرتبہ پڑھی۔
شیخ البانی نے «مسند الإمام أحمد» کے چھ ختم کیے۔
امیر شکیب ارسلان نے اصفہانی کی «الأغاني» پانچ مرتبہ پڑھی۔
شیخ بکر ابو زید نے «آثار البشير الإبراهيمي» پانچ مرتبہ پڑھی۔
شیخ بکر ابو زید نے زرکلی کی «الإعلام» پانچ مرتبہ پڑھی۔
شیخ عبد الكريم الخضير نے طہ حسین کی «الأيام» پانچ مرتبہ پڑھی۔
ڈاکٹر عبد الرحمن بن معاضة الشهری نے «تفسير القرطبي» پانچ مرتبہ پڑھی۔
شیخ عبد العزيز العويد نے ذہبی کی «سير أعلام النبلاء» پانچ مرتبہ پڑھی۔
شیخ بکر ابو زید نے حموی کی «معجم البلدان» چار مرتبہ پڑھی۔
ادیب علی الطنطاوی نے اصفہانی کی «الأغاني» تین مرتبہ پڑھی۔
شیخ عبد العزيز العويد نے «علماء نجد» تین مرتبہ پڑھی۔
شیخ محمد الغلاوی نے ابن حجر کی «فتح الباري» تین مرتبہ پڑھی۔
شیخ محمود شاکر نے «لسان العرب» تین مرتبہ پڑھی۔
شیخ عابد السندی کی کتبِ ستہ کی ماہانہ ختم کی عادت تھی۔
ابو عبد اللہ الیونینی (متوفی 701ھ) ہر ماہ «صحیح بخاری» کا مطالعہ کرتے تھے۔

بڑی اور ممتاز کتابیں ایک مرتبہ پڑھنے سے حق ادا نہیں ہوتا، اس لیے دہراؤ تاکہ علم پختہ ہو۔
جو یہ کہے کہ: میں پڑھتا ہوں مگر کچھ ذہن میں نہیں رہتا، تو اسے کہا جائے: بار بار پڑھو، جیسے ان اکابر نے پڑھا۔ جب دہرایا جاتا ہے تو بات دل میں پیوست ہوجاتی ہے ۔

ماخوذ: المتلذذون بالعلم، صفحات 416 تا 422

ابو خالد قاسمی
خادم جامعہ اسلامیہ گلزار قرآنیہ کلچھینہ غازی آباد 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شائرم انور شاہی
  • جذبات کے اظہار
  • دل کی دیوار سے ٹکراٸے ہوئے لگتے ہیں
  • غزہ اور گمشدہ اُمتِ مسلمہ!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
علم سے محبت کرنے والے
پچھلی پوسٹ
زندگی بھر فکر کرتے رہے

متعلقہ پوسٹس

اللہ کی مدد، تاریخی فتح

مئی 13, 2025

احترام کا رشتہ

اپریل 1, 2023

ندبہ

جون 15, 2020

کیا اتنا کافی ہے؟

دسمبر 4, 2019

بے کاری

دسمبر 15, 2019

پروازِ جمال

دسمبر 22, 2024

گواہی

جنوری 2, 2022

گرم کوٹ

جنوری 17, 2020

یک طرفہ محبت

دسمبر 6, 2019

حوصلہ افزائی

اکتوبر 17, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اشک کیسے یہ کوئی اور نمی...

مارچ 1, 2026

اس طرح کمالِ سخن کی پہچان...

جنوری 22, 2026

توبۃ النصوح – فصل اوّل

اکتوبر 28, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں