خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامگم شدہ چراغ
آپ کا سلاماختصاریئےاردو افسانےاردو تحاریرمحسن خالد محسن

گم شدہ چراغ

از سائیٹ ایڈمن مئی 30, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 30, 2026 0 تبصرے 2 مناظر
3

بارش ابھی تھمی ہی تھی۔ آسمان پر بادل ایسے تیر رہے تھے جیسے کوئی تھکا ہوا قافلہ سفر کے بعد آرام کر رہا ہو۔ گاؤں کے کنارے ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ اس گھر میں بارہ سال کی ایک لڑکی رہتی تھی۔ اُس کا نام مریم تھا۔ اُس کی آنکھیں صبح کے ستارے کی طرح چمکتی تھیں، مگر اُن میں ہمیشہ ایک اداسی تیرتی رہتی تھی۔
مریم اپنی ماں زبیدہ کے ساتھ رہتی تھی۔ زبیدہ گاؤں کی امیر عورتوں کے گھروں میں کام کرتی تھی۔ اُس کے کپڑے ہمیشہ صاف ہوتے مگر دل میں جیسے کوئی اندھیرا چھپا رہتا۔ مریم جب بھی اپنے باپ کے بارے میں پوچھتی تو زبیدہ کی آنکھیں پتھر بن جاتیں۔
"تمہارے ابو بہت پہلے مر گئے تھے۔”
وہ ہر بار یہی کہتی۔
مریم خاموش ہو جاتی لیکن اُس کا دل مانتا نہ تھا۔ اُسے لگتا جیسے کہیں نہ کہیں اُس کا باپ زندہ ہے۔ رات کو جب چاند کھڑکی سے جھانکتا تو مریم سوچتی کہ اُس کا باپ بھی شاید اسی چاند کو دیکھ رہا ہوگا۔
ایک دن مریم گھر کے کمرے میں پرانی چیزیں ڈھونڈ رہی تھی۔ اچانک اُسے لکڑی کے صندوق میں ایک تصویر ملی۔ تصویر میں ایک آدمی اُسے اپنی بانہوں میں اٹھائے ہنس رہا تھا۔ اُس آدمی کی آنکھیں بالکل مریم جیسی تھیں۔
تصویر کے پیچھے لکھا تھا:
"میرے جگنو مریم کے لیے۔
تمہارا ابو، سلیم۔”
مریم کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اُس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا جیسے پنجرے میں بند چڑیا پھڑپھڑا رہی ہو۔
اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔ گاؤں کی بوڑھی اماں اندر آئیں۔ اُنہوں نے تصویر دیکھی تو آہ بھری۔
"بیٹی، سچ کبھی نہ کبھی سامنے آ ہی جاتا ہے۔”
"کیا مطلب؟” مریم نے حیرت سے پوچھا۔
بوڑھی اماں نے دھیرے سے کہا:
"تمہارے ابو زندہ ہیں۔ تمہاری ماں نے دولت کے لالچ میں اُن سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ ایک رئیس آدمی نے تمہاری ماں کو بہت سا پیسہ دیا تھا۔ اُس نے تمہیں تمہارے باپ سے دور کر دیا۔”
یہ سُن کر مریم کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ اُسے لگا جیسے اُس کے دل کا ننھا چراغ تیز ہوا میں کانپنے لگا ہو۔
رات بھر وہ سو نہ سکی جبکہ اُس کی ماں آرام سے سو رہی تھی۔ مریم کی آنکھوں میں سوالوں کا سمندر تھا۔
صبح سورج نکلا تو مریم نے فیصلہ کر لیا۔
"میں اپنے ابو کو ڈھونڈوں گی۔”
وہ خاموشی سے گھر سے نکل پڑی۔ اُس کے پاس صرف ایک چھوٹا سا تھیلا، تصویر اور تھوڑے سے سکے تھے۔
راستہ لمبا تھا۔ دھوپ آگ برسا رہی تھی۔ سڑک ایسے تپ رہی تھی جیسے انگاروں کا فرش ہو۔ مریم کے پیر جلنے لگے لیکن اُس نے ہمت نہ ہاری۔
وہ ایک شہر پہنچی۔ وہاں شور اتنا تھا جیسے ہزاروں بھنورے ایک ساتھ گونج رہے ہوں۔ لوگ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔ کسی کو کسی کی فکر نہ تھی۔
مریم نے کئی لوگوں سے پوچھا،
"کیا آپ سلیم نام کے آدمی کو جانتے ہیں؟”
ہر بار جواب نفی میں ملا۔
بھوک نے اُس کا برا حال کر دیا۔ اُس نے دو دن سے کچھ نہ کھایا تھا۔ ایک ہوٹل کے باہر بیٹھی تو ایک بوڑھے شخص نے اُسے روٹی دی۔
"بیٹی، دنیا میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ ہمت مت ہارو۔”
یہ الفاظ مریم کے لیے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جیسے تھے۔
اگلے دن وہ ایک ریلوے اسٹیشن پہنچی۔ وہاں ایک فقیر بانسری بجا رہا تھا۔ اُس کی دُھن اداس پرندے کی آواز جیسی تھی۔
فقیر نے مریم کو غور سے دیکھا۔
"بیٹی، تم کسی کو ڈھونڈ رہی ہو؟”
مریم نے تصویر دکھائی۔
فقیر چونکا۔
"یہ آدمی تو میں نے برسوں پہلے دیکھا تھا۔ وہ دریا کنارے ایک بستی میں رہتا تھا۔”
مریم کی آنکھوں میں اُمید چمک اٹھی۔ وہ فوراً اُس بستی کی طرف روانہ ہو گئی۔
راستہ آسان نہ تھا۔ ایک جنگل پڑتا تھا۔ درخت لمبے دیووں کی طرح کھڑے تھے۔ ہوا سائیں سائیں کر رہی تھی۔ مریم ڈر گئی، مگر اُس نے دل مضبوط کیا۔
"ہمتِ مرداں، مددِ خدا۔”
اُس نے خود سے کہا۔
رات ہوئی تو بارش شروع ہو گئی۔ مریم ایک ٹوٹے ہوئے جھونپڑے میں چھپ گئی۔ اُس نے اپنے ابو کی تصویر سینے سے لگا لی۔ تصویر اُس کے لیے چراغ کی مانند تھی جو اندھیرے میں راستہ دکھا رہا تھا۔
صبح ہوئی تو وہ دریا کنارے آباد بستی میں پہنچ گئی۔ وہاں مٹی کے چھوٹے چھوٹے گھر تھے۔ بچے کھیل رہے تھے۔
مریم نے ایک عورت سے پوچھا،
"کیا یہاں سلیم نام کا شخص رہتا ہے؟”
عورت نے ایک جھونپڑی کی طرف اشارہ کیا۔
مریم کے قدم لرزنے لگے۔ اُس نے دھیرے سے دروازہ کھٹکھٹایا۔
اندر سے کمزور آواز آئی،
"کون ہے؟”
دروازہ کھلا تو ایک دبلا پتلا آدمی سامنے کھڑا تھا۔ اُس کے بال سفید ہو چکے تھے لیکن آنکھیں ویسی کی ویسی ہی تھیں۔
مریم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
"ابو…”
آدمی جیسے پتھر کا ہو گیا۔ پھر اُس نے کانپتے ہاتھوں سے مریم کا چہرہ چھوا۔
"میری… مریم؟”
دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگے۔ برسوں کی جدائی پگھل کر آنسوؤں میں بہہ گئی۔
سلیم نے بتایا:
"تمہاری ماں دولت کے پیچھے چلی گئی تھی۔ اُس نے مجھے تم سے ملنے نہ دیا۔ میں نے بہت تلاش کیا، مگر تم دونوں کہیں چلے گئے تھے۔”
مریم خاموشی سے سُنتی رہی۔ اُسے محسوس ہوا کہ دولت واقعی چمکتے ہوئے سانپ کی طرح ہوتی ہے، دور سے خوبصورت لگتی ہے مگر قریب جا کر ڈس لیتی ہے۔
سلیم بہت غریب تھا۔ وہ کشتی چلاتا تھا۔ اُس کا گھر چھوٹا تھا، مگر دل سمندر جیسا وسیع۔
کچھ دن بعد زبیدہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وہ بھی بستی میں آ گئی۔ اُس کی آنکھوں میں پچھتاوا تھا۔
"مجھے معاف کر دو۔ میں دولت کی چکاچوند میں اندھی ہو گئی تھی۔”
مریم خاموش رہی۔ پھر اُس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا۔
"ماں، انسان غلطی کرتا ہے۔ مگر گھر ٹوٹ جائے تو دل بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔”
زبیدہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
اُس دن دریا کے کنارے سورج بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ ایسے لگتا تھا جیسے آسمان نے اپنے سنہری ہاتھوں سے سب کے زخم سہلا دیے ہوں۔
مریم نے سیکھ لیا تھا کہ دُنیا میں دولت سب کچھ نہیں ہوتی۔ اصل دولت محبت، سچائی اور اپنے لوگ ہوتے ہیں۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ ایک نہ ایک دن حقیقت سامنے آ ہی جاتی ہے۔
اس ملن کے بعد مریم کے ننھے گھر میں جہاں کبھی خاموشی بسی رہتی تھی، اب ہنسی کی آوازیں گونجنے لگیں۔ جیسے اندھیری رات میں ایک گم شدہ چراغ جل اُٹھا ہو۔

محسن خالد محسنؔ 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • منفی سوچ اور صحت کا حسّاس معاملہ
  • ہالی ووڈ کا فریب – پہلی قسط
  • نبی کریمؐ کی تعظیم پر سمجھوتہ ہر گز نہیں
  • وارسا کی شرارتی دیویاں – پہلی قسط
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کیا عورت محبت کی بھوکی ہے؟
پچھلی پوسٹ
اس نے مجھ کو ہاتھ لگایا اور لگا کے چھوڑ دیا

متعلقہ پوسٹس

باردہ شمالی

جنوری 21, 2020

سورۃ الملک: مالک ہونے کا وہم

فروری 13, 2026

ٹین کے آدمی

نومبر 28, 2020

کشمیر میں بھارتی استعماریت

فروری 6, 2020

قانو ن کی حکمرانی!

اپریل 23, 2022

میجر عدنان: ایک زندہ روایت

ستمبر 10, 2025

چوہے دان

جنوری 24, 2020

عقیدۂ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم اور ہماری ذمہ...

جولائی 31, 2020

اُلٹی دنیا

مئی 25, 2024

سعادت مند ترین انسان کون ہے؟

دسمبر 16, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

صاحب کرامت

جنوری 21, 2020

خزاں کی مسکراہٹ

دسمبر 10, 2024

بات جو کرتے نہیں آپ کی...

دسمبر 8, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں