خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیا پاکستان میں تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

کیا پاکستان میں تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں؟

از سائیٹ ایڈمن اپریل 26, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 26, 2026 0 تبصرے 24 مناظر
25

یہ سوال آج کے پاکستان میں صرف ایک سوال نہیں بلکہ ایک اجتماعی آہ ہے۔ وہ والدین جو فیسیں ادا کرتے کرتے تھک چکے ہیں، وہ نوجوان جو ڈگری ہاتھ میں لیے نوکری کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہیں اور وہ اُستاد جو اپنے ادارے کے بند ہونے کا خوف دل میں لیے کلاس میں کھڑا ہے یہی سوال پوچھ رہا ہے کہ کیا واقعی تعلیم بے فائدہ ہو چکی ہے۔
جب ایک ریاست اپنے تعلیمی ادارے بند کرنا شروع کر دے، سکولوں کو پرائیویٹائز کرے، ہزاروں ملازمین کی سیٹس ختم کرے اور تعلیم کو فضول خرچ سمجھنے لگے تو وہاں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ہزاروں سکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنا اور مختلف محکموں میں لاکھوں آسامیوں کا خاتمہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سماجی المیہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح بچت کرکے ملک ترقی کرے گا یا اپنی بنیادیں مزید کمزور کرے گا؟
دُنیا کی کوئی بھی ترقی یافتہ قوم تعلیم کو بوجھ نہیں سمجھتی۔ جاپان دوسری جنگِ عظیم کے بعد ملبے کا ڈھیر تھا مگر اس نے سب سے پہلے سکول اور یونیورسٹیاں مضبوط کیں۔ جنوبی کوریا نے غربت سے نکلنے کے لیے تعلیم کو ہتھیار بنایا۔ فن لینڈ آج دُنیا کے بہترین تعلیمی نظام کی مثال ہے۔ وہاں تعلیم مفت ہے کیونکہ ریاست جانتی ہے کہ تعلیم خرچ نہیں سرمایہ کاری ہے۔
نیلسن منڈیلا نے کہا تھا
Education is the most powerful weapon which you can use to change the world
تعلیم دُنیا بدلنے کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے تو پاکستان میں یہی ہتھیار کیوں کمزور کیا جا رہا ہے؟
ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم کو فوری منافع کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر کسی ادارے سے فوری پیسہ منافع کی صورت واپس نہ آئے تو اسے غیر ضروری سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ سوچ خطرناک ہے اور بیمار ذہن کی علامت ہے۔سوال یہ ہے کہ ایک سکول بند کرنے سے چند لاکھ کی بچت ہو سکتی ہے مگر ایک نسل کی تباہی کا حساب کون دے گا۔
والدین بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں مگر مہنگائی نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔ آٹا،بجلی، گیس، دوائی اور کرایہ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایسے میں سکول کی فیس، کتابیں، یونیفارم اور ٹرانسپورٹ ایک متوسط طبقے کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔ غریب آدمی پہلے پیٹ بچاتا ہے پھر خواب اور تعلیم اکثر اسی خواب کے ساتھ دفن ہو جاتی ہے۔
دوسری طرف حکمران طبقہ اپنی شاہ خرچیوں میں مصروف ہے۔ برسرِ اقتدار طبقہ کو سرکاری پروٹوکول، غیر ملکی دورے اور بے شمار مراعات جاری ہیں۔ عوام کو کفایت شعاری کا درس دینے والے خود آسائشوں کے محل میں رہتے ہیں۔ جب ریاست خود مثال نہ دے تو قربانی کا مطالبہ ظلم محسوس ہوتا ہے۔
یہ احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ شاید پاکستان صرف امیر طبقے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اچھے سکول ان کے لیے، اچھے ہسپتال ان کے لیے، محفوظ نوکریاں ان کے لیے اور باقی عوام کے لیے صرف صبر۔ غریب کا بچہ اگر تعلیم حاصل کر بھی لے تو سفارش اور نظام کی ناانصافی اس کا راستہ روک دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکیسویں صدی کا نوجوان اپنے ملک سے مایوس ہو رہا ہے۔

علامہ اقبال نے کہا تھا:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

مزے کی بات یہ کہ جب فرد کو تعلیم ہی نہ دی جائے تو وہ ستارہ کیسے چمکے گا؟
ادارے ختم کرنے سے ملک ترقی نہیں کرتا۔ ادارے ریاست کی ہڈیاں ہوتے ہیں۔ اگر آپ مسلسل انہیں توڑتے رہیں تو جسم کھڑا نہیں رہ سکتا۔ سکول، کالج، یونیورسٹیاں، تحقیقی مراکز اور تربیتی ادارے کسی بھی قوم کی فکری بنیاد ہوتے ہیں۔ ان کے بغیر صرف عمارتیں بچتی ہیں ریاست نہیں۔
آج کا ٹین ایج سوشل میڈیا کے زیر اثر تیزی سے بدل رہا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ شہرت فوری چاہیے، پیسہ فوری چاہیے اور زندگی بھی فوری کامیابی مانگتی ہے۔ جب اسے نظر آتا ہے کہ برسوں پڑھنے والے بے روزگار ہیں اور شارٹ کٹ لینے والے مہنگی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں تو اس کا اعتماد تعلیم سے اُٹھنے لگتا ہے۔
اسی خلا میں پورن انڈسٹری،ولگر ویڈیوز اور آن لائن جسم فروشی کے نیٹ ورک نوجوان ذہنوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ مختلف ایپس اور پلیٹ فارمز نے جسم کو بھی بازار بنا دیا ہے۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں شارٹ کٹ سے پیسہ کمانے کے جال میں پھنس رہے ہیں۔ یہ صرف اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی اور تعلیمی بحران کا نتیجہ ہے۔ جب ریاست باعزت راستے بند کرتی ہے تو غیر اخلاقی و غیر قانونی راستے خود بخود کھل جاتے ہیں۔
سوشیالوجسٹ زیگمنٹ باومن نے لکھا تھا کہ "جب معاشرہ انسان کو صرف اس کی مارکیٹ ویلیو سے ناپنے لگے تو اخلاقیات سب سے پہلے مرتی ہیں”۔ پاکستان اسی خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔
لاکھوں روپے تعلیم پر خرچ کرنے سے اگر کچھ نہیں مل رہا تو سوال تعلیم پر نہیں بلکہ نظام پر ہونا چاہیے۔ مسئلہ نصاب میں ہے، پالیسی میں ہے، کرپشن میں ہے اور ترجیحات میں ہے۔ ایک بیمار کا ہسپتال میں علاج نہ ہو تو ہسپتال بند نہیں کیا جاتا بلکہ نظام بہتر کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں اکثر سول مارشل لا ذہنیت کے تحت فیصلے کیے جاتے ہیں۔ عوام کو شریک کیے بغیر اوپر سے نیچے حکم صادر ہوتا ہے۔ تعلیمی پالیسی بھی اکثر اسی سوچ کا شکار رہی ہے۔پالیسی نافذ کرتے ہوئے اُستاد سے نہیں پوچھا جاتا، طالب علم سے رائے نہیں لی جاتی اور والدین کے تحفظات کو بھی سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ ستم یہ کہ کڑوروں بچوں کا فائلوں میں مستقبل لکھ دیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک بار کہا تھا "قومیں ایٹم بم سے نہیں تعلیم سے مضبوط ہوتی ہیں”۔ اگر ہم واقعی مضبوط پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں کتاب کو بندوق سے زیادہ اہم ماننا ہوگا۔
یونیسکو کی رپورٹس بار بار خبردار کرتی ہیں کہ ترقی پذیر ممالک اگر تعلیم پر سرمایہ کاری کم کرتے ہیں تو غربت کئی نسلوں تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی لاکھوں بچوں کے سکول سے باہر ہونے کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ اگر یہی رفتار رہی تو ہم صرف معاشی نہیں فکری دیوالیہ پن کا شکار بھی ہوں گے۔
سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں پڑھنے کا فائدہ ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنے پڑھنے والوں کے ساتھ کیا کر سلوک رہا ہے۔ اگر تعلیم یافتہ نوجوان کو روزگارکے مواقع نہیں ملیں گے تو قصور تعلیم کا نہیں ریاستی ترجیحات کا ہوگا۔
قومیں یونیورسٹیاں بند کرکے نہیں بلکہ کھول کر ترقی کرتی ہیں اور اُستاد کو بے عزت کرکے نہیں بلکہ عزت دے کر آگے بڑھتی ہیں۔ نوجوان کو شارٹ کٹ سے بچانے کے لیے لمبا مگر محفوظ راستہ دینا پڑتا ہے۔
اگر ہم نے تعلیم کو صرف خرچ سمجھا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اس لیے کہ سکول بند ہونے کی آواز صرف ایک دروازہ بند ہونے کی آواز نہیں ہوتی بلکہ ایک قوم کے مستقبل کے بند ہونے کی دستک ہوتی ہے۔
پاکستان کو صرف امیروں کے لیے نہیں بلکہ ہر بچے کے خواب کے لیے بننا ہوگا۔ ورنہ ایک دن یہ سوال نہیں رہے گا کہ پڑھنے کا فائدہ کیا ہے بلکہ یہ سوال ہوگا کہ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں سے ان کا حق کیوں چھین لیا؟

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مشہور شخصیات
  • کشمیر ایک ادھورا وعدہ اور زندہ جدوجہد
  • بلائوں کو ٹالنے کا سبب
  • پا بہ زنجیر، کبھی خاک بہ سر کھینچتے ہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
رکاوٹیں تھیں وہاں جا بجا پہ ناکہ تھا
پچھلی پوسٹ
ایران – امریکہ تعلقات کا تاریخی پس منظر

متعلقہ پوسٹس

قیمے کی بجائے بوٹیاں

جنوری 18, 2020

حبیب جالب – عوام کا شاعر اور انقلابی سوچ

جون 6, 2026

نجات

اکتوبر 29, 2019

ایک جسم، ایک سایہ، ایک چیخ

جون 13, 2025

ماموندر کی آدم خور

نومبر 23, 2019

خواب سے حقیقت تک

فروری 13, 2026

تعصب

دسمبر 4, 2019

ٹیسٹ کرکٹ سے لیگ کرکٹ کا سفر!

جنوری 20, 2021

مائدہ ۔۔۔ اللہ کا دسترخواں

مئی 5, 2021

خوابوں کا آبشار

دسمبر 11, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سرخ ٹوپی

اکتوبر 26, 2019

سب کے سامنے اپناؤ ورنہ بھاڑ...

اپریل 14, 2021

مس مالا

دسمبر 6, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں