خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامامین جالندھری کا ” شہر نامہ دوم”
آپ کا سلاماردو تحاریرتحقیق و تنقیدغنی الرحمٰن انجممقالات و مضامین

امین جالندھری کا ” شہر نامہ دوم”

از سائیٹ ایڈمن اپریل 5, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 5, 2026 0 تبصرے 54 مناظر
55

جدید ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کی انقلاب آفرین سہولتوں نے کائنات کے وسیع و عریض فاصلوں کو سمیٹ کر ایک ‘گلوبل ویلج’ کی شکل دے دی ہے۔ آج کا انسان زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو چکا ہے لمحوں میں پیغام رسانی اور دنیا کے کونے کونے سے فوری رابطوں نے انسانی میل جول اور تعلق کو اس قدر آسان بنا دیا ہے کہ پوری دنیا اب ایک چھت تلے سمٹی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ بلا شبہ، یہ انٹرنیٹ کی تیز رفتار کرشمہ سازی ہی ہے جس نے دوریوں کو قربتوں میں بدل کر ہمیں ایک نئے اور مربوط عہد سے روشناس کرایا ہے۔
اس عالمی و سماجی رابطے کی ایک زندہ اور عملی مثال، حیدرآباد کی معروف ادبی شخصیت، نامور ادیب، کالم نگار اور نابغہ روزگار شخصیت محترم امین جالندھری صاحب سے میری شناسائی، ادبی رفاقت اور تعلق ہے اور اسی ادبی تعلق کے تسلسل میں، امین جالندھری صاحب نے ازراہِ کرم اپنی کتاب ”شہرنامہ دوم” مجھے بذریعہ ڈاک ارسال فرمائی، جس پر ان کے قیمتی الفاظ اور دستخط ثبت ہیں۔ اس محبت اور علمی عنایت کے لیے میںshehar naama ان کا بے حد ممنون و متشکر ہوں۔
یوں تو سب امین جالندھری کو حیدرآباد کی ایک معروف ادبی شخصیت کے طور پر جانتے ہیں مگر اب ایسا نہیں ہے کیوں کہ اب ان کا ادبی کام انکی ادبی خدمات صرف حیدرآباد تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کے نام کو پاکستان سمیت پوری دنیا میں ان کے ادبی کام کی نسبت سے پہچان اور پذیراٸی ملی ہے ۔
اب اگر یہ کہا جاۓ کہ حیدرآباد کے ادبی محفلوں کی تاریخ اور تذکرے سے حیدرآباد یا کراچی سے باہر کے لوگوں کا کیا لینا دینا تو ایسا بلکل بھی نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ادب کا رشتہ بنیادی طور پرانسانی رویوں سے جڑا ہوا ہے کیونکہ ادب کی بنیادی اساس ہی انسانی رویٸے ہیں جسے ادب کے مختلف اصناف میں مختلف انداز سے زیر بحث لایا جاتا ہے اور یہ انسانی رویٸے دنیا کے تمام انسانوں کے کسی نا کسی طور یکساں ہوتے ہیں
کیونکہ دنیا کے تمام انسان دکھ درد غم خوشی سچ جھوٹ صحیح غلط وغیرہ کو یکساں محسوس کرتے اور ان تمام رویوں سے یکساں طور پرمتاثر ہوتے ہیں۔
اور "شہر نامہ دوم” پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے نامور لکھنے والوں کے تبصرے اور تعریفی کلمات اس بات کے دستاویزی ثبوت کیلٸے نہ صرف کافی بلکہ قابل ادخال شہادت ہیں۔

امین جالندھری کا قلم گزشتہ کٸی دہائیوں سے معاشرتی اور ادبی اقدار کی پاسبانی کر رہا ہے آپ محض ایک کالم نگار نہیں بلکہ ایک تہذیبی مورخ بھی ہیں جنہوں نے اپنی جوانی کے بھرپور ایام سے لے کر آج کے "عصرِ نفسا نفسی” تک، شہر کی ادبی نبض کو محسوس کیا ہے۔ آپ کے نزدیک ادب کا مقصد ذاتی منفعت یا سستی شہرت نہیں، بلکہ فکری ارتقا، خودداری اور سچائی کی ترویج ہے۔ آپ کا اسلوب سادہ مگر کاٹ دار ہے، جو ایک طرف محبتوں کا امین ہےتو دوسری طرف ادبی بددیانتی اور سرقہ بازی کے خلاف ایک توانا احتجاج بھی ہے۔
"شہر نامہ دوم” امین جالندھری کے ان کالموں اور مضامین کا مجموعہ ہے جو تیس سالہ ادبی محافل کی روداد بیان کرتے ہیں۔ مارچ 2025ء میں منظرِ عام پر آنے والی یہ کتاب حیدرآباد کی علمی و ادبی تاریخ کا ایک اہم ریکارڈ ہے۔ اس کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ یہ ان شخصیات جو آج ہم میں موجود نہیں یا ایسے واقعات کو محفوظ کرتی ہے جو وقت کی گرد میں اوجھل ہو سکتے تھے۔ یہ کتاب صرف ماضی کی یاد نہیں، بلکہ حال کے ادبی بگاڑ کے خلاف ایک احتجاج اور چارج شیٹ بھی ہے جہاں مصنف نے "پی ایچ ڈی” مقالہ جات میں سرقہ بازی اور گروہ بندیوں پر کھل کر جرات مندانہ گفتگو کی ہے۔
ڈاکٹر وصی بیگ بلال
ڈائریکٹر اے سی این ایف کالج آف انجینئر اینڈ مینجمنٹ اسٹڈیز
اتر پردیش، انڈیا
"شہرنامہ دوم” پر تبصرے میں لکھتے ہیں کہ
"ادبی محافل کی روداد ادب کے شائقین کے لیے ایک گراں قدر سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ شہر نامہ ۲ کے مطالعہ کے بعد ہمارے لیے ملک پاکستان کی ادبی محفلوں کو سمجھنے خصوصی طور پر کراچی شہر کے ادبی ذوق اور شعراء کے کلام کو جاننے کا موقع ملا۔ قابلِ مبارک باد ہیں امین جالندھری صاحب جنہوں نے نہ صرف تیس سالہ ادبی محافل کی روداد بیان کی بلکہ اپنے خاکوں، سفر ناموں اور اشعار کے ساتھ ساتھ ہمیں دور سے ہی شہر کراچی کی سیر کراتے ہوئے وہاں کے ادبی ماحول سے بھی روشناس کرایا۔”

ڈاکٹر شبیر احمد قادری۔ صدر، شعبہ اردو، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی فیصل آباد
"شہرنامہ دوم ” پر تبصرے میں "تحفۃالعاشقین” کے عنوان سے اپنےمضمون میں یوں رقم طراز ہیں

"ایسی کتابیں تاریخ نویسی کے ضمن میں کلیدی حوالہ اور اساسی متاع کا درجہ اختیار کر لیتی ہیں۔ اس کتاب کے مندرجات سے یہ پہلو نمایاں ہوتا ہے کہ محض دولت و حشمت اور مال و منال کی ریل پیل، امورِ تجارت کی فراوانی، سیمنٹ، ریت اور بجری کے آمیزے سے بنی ہوئی دلکش اور سر بفلک عمارتیں ہی شہروں اور قصبوں کی شناخت نہیں ہوتیں بلکہ مذہبی قدروں، مسلمہ اخلاقی قرینوں، علمی وقار، تعلیمی تمکنت اور شعر و ادب کی وجاہت نسبتاً دیر پا شناخت کی حامل ہوتی ہے۔”
"شہرنامہ دوم” پر ڈاکٹر وصی بیگ بلال اتر پر دیش انڈیا
ڈاکٹر شبیر احمد قادری فیصل آباد کے علاوہ بھی
جن اہل قلم نے اپنے قیمتی خیالات کا اظہار اور تبصرہ کیا ھے ان تمام کا تعلق بھی صرف حیدرآباد اور کراچی سے نہیں بلکہ پاکستان کے دیگر دور دراز شہروں قصبوں سمیت بیرون ملک کے بیشتر نامور ادیب اس میں شامل ہیں جن میں
معروف افسانہ و ناول نگار سلمیٰ صنم کرناٹک بھارت ، معروف شاعرہ ادیبہ مبصرہ عشرت معین سیما جرمنی، جناب ناصر نظامی ہالینڈ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ امین جالندھری صاحب کا مرتب کردہ ” شہر نامہ مجلہ 2025″ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں پچاس سے زاٸد وہ معتبر علمی و ادبی شخصیات شامل ہیں جنھوں نے نثر اور اپنے منظوم کلام کے ذریعے امین جالندھری کی شخصیت، ان کےکام اور محنت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوۓ انکی ادبی روداد "شہر نامہ” کو ایک گراں قدر ادبی اور تاریخی دستاویز قرار دیا ہے۔

ذاتی طور پر جہاں مجھے یہ کتاب ایک مفید علمی، ادبی اور تاریخی دستاویز محسوس ہوئی جس نے مجھے گزشتہ تیس برسوں کی ادبی محافل، کالم نگاری کے بدلتے رنگوں اور بالخصوص امین جالندھری صاحب کے منفرد طرزِ تحریر و اسلوب سے روشناس کرایا وہیں ایک تشنہ پہلو کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ کتاب کی ترتیب میں برتی گئی ایک ایسی عجلت جو نفسِ مضمون کو تو متاثر نہیں کرتی البتہ اس کی ظاہری ترتیب اور جمالیاتی حسن میں کہیں کہیں رکاوٹ بنتی ہے میری مراد صفحہ نمبر چار پر”فہرستِ” میں صفحات کی نشاندہی یا صفحات کے نمبر سے ہے جسے مزید ایک صفحے کے اضافے کے ساتھ ترتیب دیا جاتا تو قاری کے لیے مطالعے میں مزید آسانی پیدا ہو سکتی تھی۔
تاہم ان جزوی تکنیکی پہلوؤں سے قطع نظر یہ کتاب اپنی معنویت کے اعتبار سے ایک گراں قدر سرمایہ ہے۔
میں ایک بار پھر امین جالندھری صاحب کا بیحد متشکر ہوں کہ انہوں نے اپنی محبت کے اظہار کے طور پر "شہر نامہ دوم” کے ذریعے مجھے حیدرآباد کی گزشتہ تیس سالہ ادبی تاریخ کے انمول مشاہدات میں شریک کیا۔ امید ہے کہ ان کا یہ علمی سفر اسی تواتر کے ساتھ جاری رہے گا۔

غنی الر حمٰن انجم
کلفٹن کراچی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • لمس ایک دھوکا ہے
  • عید کا چاند اور دل کی کیفیت
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟
  • اردو غزل کا سورج – سورج نرائن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہوش والوں کو خبر کیا
پچھلی پوسٹ
جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

متعلقہ پوسٹس

گُل رخے

نومبر 2, 2019

امرتسر میں بچپن کا رمضان اور سحری

مارچ 25, 2024

رکاوٹیں تھیں وہاں جا بجا پہ ناکہ تھا

اپریل 25, 2026

پاکستان کی خوشحالی کا راستہ

اکتوبر 29, 2025

ہم مشکلوں کے میزبان بنے ہوئے ہیں !

فروری 21, 2023

زمانے بھر کا جو سارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے

فروری 20, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

گلِ سرخ پوشیدہ

دسمبر 13, 2024

شیطان سے فرضی یا خیالی ملاقات!

مارچ 11, 2022

پاکستان میں اسلام قبول کرنے پرپابندی کا بل

ستمبر 24, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کی محمد ﷺ سے وفا تُو...

ستمبر 29, 2025

گلاب ظالم

مئی 21, 2020

دیوالی

فروری 5, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں