خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامحکمرانی صرف اکثریت پر موقوف نہیں ہوتی!!!
آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمز

حکمرانی صرف اکثریت پر موقوف نہیں ہوتی!!!

از سائیٹ ایڈمن اپریل 4, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 4, 2026 0 تبصرے 46 مناظر
47

آج ہم مسلمان جس نازک اور پیچیدہ حالات سے گزر رہے ہیں، شاید ہمارے اسلاف نے بھی اس کی ایسی تصویر کبھی نہ دیکھی ہوگی، اور نہ ہی ہم نے اس کا تصور کیا تھا۔ بلا شبہ یہ صورتِ حال ہمارے اپنے اعمال، کمزوریوں اور کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔

برصغیر کی آزادی کے بعد بظاہر ہم نے غلامی کی زنجیروں کو توڑ دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک نئی قسم کی غلامی کو خود اپنے اوپر مسلط کر بیٹھے۔ انگریزوں کے تسلط سے نکلنے کے باوجود ہم نے دوسروں پر اندھا اعتماد کرکے اپنی فکری و عملی آزادی کو محدود کرلیا۔ نتیجتاً ہم ذہنی غلامی، خوف، بزدلی اور کمزوری کا شکار ہوگئے، جو آہستہ آہستہ ہماری رگ و پے میں سرایت کرگئی۔
ہم اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے کہ حکمرانی کے لیے صرف عددی اکثریت ضروری ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تاریخ کا غیر جانبدار مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ اقتدار ہمیشہ ان لوگوں کے ہاتھ میں رہا ہے جن کے پاس قوت، صلاحیت، حکمت عملی اور دوراندیشی تھی— نہ کہ صرف تعداد کی کثرت۔
اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے شیخ الاسلام حضرت حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے "دو قومی نظریہ” کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ:
ہم (مسلمان) اس ملک کے اصل وارث ہیں۔ ہم ہندوؤں کو الگ ریاست کیوں دیں؟ یہ ان کا حق نہیں۔ یہ پورا خطہ ہمارا ہے۔ اکثریت اور اقلیت کی بحث بے معنی ہے، کیونکہ مسلمان کبھی بھی عددی اعتبار سے اکثریت میں نہیں رہے، اس کے باوجود انہوں نے صدیوں تک حکومت کی— اور یہ حکومت تعداد کی بنیاد پر نہیں بلکہ قوت اور بصیرت کی بنیاد پر تھی۔
(حصولِ آزادی میں علماء کا کردار، ص: ۷)

اسلامی نظامِ حکمرانی کی بنیاد بھی یہی ہے کہ قیادت اور اقتدار کا دار و مدار صرف تعداد پر نہیں بلکہ اہلیت، قوتِ فیصلہ اور بصیرت پر ہوتا ہے۔ مدینہ منورہ کی ریاست اس کی روشن مثال ہے، جہاں رسول اللہ ﷺ نے میثاقِ مدینہ کے ذریعے مختلف اقوام کو ایک قیادت کے تحت متحد کیا، حالانکہ مسلمان اس وقت تعداد میں کم تھے۔
غزوۂ بدر اس حقیقت کا عظیم شاہد ہے، جہاں صرف ۳۱۳ مسلمانوں نے ایک بڑے لشکر کا مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی۔ یہ فتح نہ تعداد کی وجہ سے تھی اور نہ ہی وسائل کی کثرت کی بنا پر، بلکہ یہ ایمان، عزم، حکمت اور اللہ پر کامل اعتماد کا نتیجہ تھی۔
یہ سوچ کہ "ہمارے پاس کچھ نہیں اور دوسروں کے پاس سب کچھ ہے” دراصل کمزوری اور بزدلی کی علامت ہے۔ کامیابی کے لیے صرف وسائل کافی نہیں ہوتے، بلکہ حوصلہ، عزم اور مضبوط ارادہ بھی ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا ہر باب اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ مسلمان اکثر تعداد اور وسائل میں کم تھے، لیکن اپنے ایمان اور استقامت کی وجہ سے کامیاب ہوئے۔

عصرِ حاضر میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں:
افغانستان میں ۲۰۰۱ء میں دنیا کی بڑی طاقتوں نے طالبان حکومت کو ختم کردیا، مگر محدود وسائل کے باوجود وہی طالبان ۲۰۲۱ء میں انہی طاقتوں کو پسپائی پر مجبور کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

شام میں اسد خاندان کی حکومت ۱۹۷۱ء سے جاری رہی، مگر دسمبر ۲۰۲۴ء میں اس کا خاتمہ ہوگیا۔ یہاں بھی مسئلہ تعداد کا نہیں بلکہ عزم، حالات اور مقابلہ کرنے والوں کی جرأت کا تھا۔
لہٰذا اگر ہم واقعی اپنی حالت بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر تبدیلی لانی ہوگی۔ اپنی سوچ کو درست کرنا ہوگا، اپنی کمزوریوں کو پہچاننا ہوگا، اور اپنی قوت کو بڑھانا ہوگا۔ صرف دعاؤں پر اکتفا کرنا کافی نہیں— دعا کے ساتھ عمل، حکمت اور جدوجہد بھی ضروری ہے۔ اگر صرف دعا ہی کافی ہوتی تو رسول اللہ ﷺ میدانِ عمل میں جدوجہد نہ فرماتے۔
ہمیں دوسروں کی غلامی، خوشامد اور اندھی تقلید کو ترک کرنا ہوگا۔ ہم نے دوسروں پر حد سے زیادہ بھروسہ کیا، مگر اس کے بدلے ہمیں دھوکہ، ناانصافی اور محرومیوں کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا— جیسے بابری مسجد کا مسئلہ، این آر سی، ڈی ووٹر، کیمپوں کی اذیتیں، فسادات اور مذہبی معاملات میں مداخلت وغیرہ۔
اگر مسلمان اب بھی اپنی سیاسی، سماجی اور فکری قیادت تیار نہ کریں تو حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ یہ سوچنا کہ "صرف حکومت بدلنے سے سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا” ایک بڑی غلط فہمی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔
(سورۂ رعد: ۱۱)

جمہوریت میں بظاہر اکثریت کو اہمیت دی جاتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف تعداد ہی سب کچھ نہیں ہوتی۔ اگر کوئی قوم میدان میں اترنے، محنت کرنے، قیادت پیدا کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا عزم کرلے تو حالات ضرور بدل سکتے ہیں. ان شاء اللہ۔
ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے، مگر ضروری یہ ہے کہ ہم حقیقت کو سمجھیں، خود کو بدلیں، اور اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے سنجیدہ کوشش کریں۔

ابو خالد قاسمی
استاذ جامعہ اسلامیہ گلزار قرآنیہ غازی آباد ۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • قرآن کے نغماتی اعجاز
  • میں تیرے دیدار کی
  • ننگی آوازیں
  • کاش مجھ کو ترے ہونے کا سہارا ہوتا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ڈاکٹر محسن خالد محسنؔ سے مصاحبہ(انٹرویو)
پچھلی پوسٹ
قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

متعلقہ پوسٹس

بارش – رحمت یا زحمت

ستمبر 17, 2025

رشید حسرت کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ

اکتوبر 26, 2025

جنون لطیفہ

جنوری 2, 2020

فن ایسا ہو کہ کوزے میں

دسمبر 7, 2025

بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے رہنما اصول

مئی 21, 2024

کھوٹے سکے یا کھرے اعمال

جون 15, 2025

امید کی شمع

جنوری 19, 2025

عشق ادھورا

اپریل 4, 2026

مولانا دستار نیازی

مئی 10, 2020

بجلی کے بلوں میں ریلیف

جولائی 24, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کیا ایسانہیں ہوسکتا

اکتوبر 9, 2022

بےنظیر

دسمبر 29, 2019

محبت کی دیوی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ...

جولائی 4, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں