ماہِ رمضان قرآن کا مہینہ ہے اور اسی مہینے میں "امام المتقین” علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت نے اس کی عظمت کو دگنا کر دیا ہے۔ یہ موقع ایک موقع ہے کہ ہم قرآن کے اس مرکزی تصور "تقویٰ” کو سمجھیں۔
1. تقویٰ کیا ہے؟
عام طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ تقویٰ کا مطلب صرف پرہیزگاری یا گناہوں سے بچنا ہے، لیکن علم کلام میں یہ اس سے بڑھ کر ایک "وجودی حالت” (State of Being) ہے۔ یہ کیفیت انسان کے باطن پر اس طرح چھا جاتی ہے کہ وہ خود بخود برائیوں سے بچنے لگتا ہے۔
لغت میں "وقی” کے معنی بچانے اور محفوظ کرنے کے ہیں۔ اس لحاظ سے تقویٰ کا مفہوم ہے "اپنے آپ کو اللہ کے عذاب سے بچانا”۔ متکلمین کی مشہور تعریف ہے: "نفس کی وہ پختہ کیفیت جس سے اچھے اعمال صادر ہوں اور برے اعمال ترک کر دیے جائیں۔”
امام علی علیہ السلام، جو خود "امام المتقین” ہیں، نے تقویٰ کی جامع تعریف یوں فرمائی: "تقویٰ عظمت والے خدا کا خوف، قرآن پر عمل، تھوڑے پر قناعت اور قیامت کے سفر کی تیاری کا نام ہے۔”
2. تقویٰ کی تین قسمیں
متکلمین نے تقویٰ کی تین سطحیں بتائی ہیں:
· عام لوگوں کا تقویٰ: یہ ابتدائی درجہ ہے جہاں بندہ صرف جہنم کے خوف اور عذاب سے بچنے کے لیے گناہ چھوڑتا ہے۔
· خاص لوگوں کا تقویٰ: یہ مقام خوفِ خدا (خشیت) کا ہے۔ یہاں بندہ نہ صرف گناہوں سے بلکہ شبہات اور فضول کاموں سے بھی بچتا ہے۔
· خاص الخاص (اولیاء کا تقویٰ): یہ اعلیٰ ترین مقام ہے جہاں بندہ غیر اللہ سے مکمل طور پر کٹ جاتا ہے۔ یہ امام علی علیہ السلام کا مقام ہے۔ آپ کا فرمان ہے: "اگر مجھے ساتوں اقلیم اور ان کے نیچے کی ساری کائنات دے دی جائے تاکہ میں ایک چیونٹی کے منہ سے جو کا چھلکا بھی چھینوں (ظلم کروں) تو میں ہرگز ایسا نہ کروں گا۔”
3. تقویٰ کیسے پیدا ہو؟
تقویٰ کے حصول کے چار اہم عوامل ہیں:
· معرفتِ الٰہی: جتنی اللہ کی پہچان ہوگی، اتنا ہی تقویٰ بڑھے گا۔ قرآن کہتا ہے: "اللہ سے اس کے علماء ہی ڈرتے ہیں۔”
· ذکر و فکر: اللہ کی یاد اور عقل کو استعمال کرنے سے تقویٰ پروان چڑھتا ہے۔ قرآن صاحبانِ عقل کو ہی تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔
· محبتِ الٰہی: جب بندہ اللہ سے سچی محبت کرتا ہے تو اس کی نافرمانی سے بچتا ہے۔
· خوف اور امید کا توازن: اللہ کے عذاب سے ڈرنا اور اس کی رحمت سے امید رکھنا، یہ دونوں مل کر تقویٰ پیدا کرتے ہیں۔
4. تقویٰ کے چار درجے
· پہلا درجہ (اصلاحِ ظاہر): گناہوں سے ظاہری پرہیز۔ یہ اسلام کی ابتدائی منزل ہے۔
· دوسرا درجہ (اصلاحِ باطن): دل کے امراض جیسے حسد، تکبر اور کینہ سے دل کو پاک کرنا۔ یہ ایمان کا درجہ ہے۔
· تیسرا درجہ (مراقبہ): ہر لمحہ یہ احساس کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ یہ احسان کا درجہ ہے۔
· چوتھا درجہ (فنا فی اللہ): اللہ میں اس طرح گم ہو جانا کہ غیر اللہ کا خیال تک نہ رہے۔ قرآن میں اس اعلیٰ مقام کو "حق تقویٰ” (اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
5. تقویٰ کے چھ اہم فوائد
قرآن مجید میں تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے بے شمار انعامات کا ذکر ہے:
1. ولایت: متقی ہی اللہ کے دوست ہیں، انہیں نہ کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں۔
2. فرقان: اللہ انہیں حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت (فرقان) عطا کرتا ہے۔
3. آسانی: اللہ ان کے کاموں میں آسانی پیدا کر دیتا ہے۔
4. بے حساب رزق: اللہ انہیں ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں ان کا گمان بھی نہیں ہوتا۔
5. مغفرت اور اجر عظیم: اللہ ان کی برائیاں معاف کر دیتا ہے اور اجر عظیم عطا کرتا ہے۔
6. قبولیتِ اعمال: اللہ صرف متقیوں ہی کے اعمال قبول فرماتا ہے۔
نتیجہ
امام المتقین علیہ السلام کی پوری زندگی تقویٰ کی عملی تصویر ہے۔ آپ کا فرمان ہے: "اگر پردہ ہٹ جائے (اور میں خدا کو دیکھ لوں) تو میرے یقین میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔” اس سے ظاہر ہے کہ آپ کا تقویٰ عین الیقین کے مقام پر تھا۔
ماہِ رمضان میں قرآن کا نزول اور امام المتقین کی شہادت ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ تقویٰ ہی وہ واحد چیز ہے جو ہمیں قرآن سے بھی جوڑتی ہے اور امام المتقین کی قربت بھی عطا کرتی ہے۔ اللہ ہمیں اس حقیقی تقویٰ سے نوازے۔
محمدحسین بہشتی
