100
دل گیا رونق حیات گئی
غم گیا ساری کائنات گئی
دل دھڑکتے ہی پھر گئی وہ نظر
لب تک آئی نہ تھی کہ بات گئی
دن کا کیا ذکر تیرہ بختوں میں
ایک رات آئی ایک رات گئی
تیری باتوں سے آج تو واعظ
وہ جو تھی خواہش نجات گئی
ان کے بہلائے بھی نہ بہلا دل
رائیگاں سعئ التفات گئی
مرگ عاشق تو کچھ نہیں لیکن
اک مسیحا نفس کی بات گئی
اب جنوں آپ ہے گریباں گیر
اب وہ رسم تکلفات گئی
ہم نے بھی وضع غم بدل ڈالی
جب سے وہ طرز التفات گئی
ترک الفت بہت بجا ناصح
لیکن اس تک اگر یہ بات گئی
ہاں مزے لوٹ لے جوانی کے
پھر نہ آئے گی یہ جو رات گئی
ہاں یہ سرشاریاں جوانی کی
آنکھ جھپکی ہی تھی کہ رات گئی
جلوۂ ذات اے معاذ اللہ
تاب آئینۂ صفات گئی
نہیں ملتا مزاج دل ہم سے
غالباً دور تک یہ بات گئی
قید ہستی سے کب نجات جگرؔ
موت آئی اگر حیات گئی
جگر مراد آبادی
