559
میں تیرے ہجر میں یوں بھی دہائی دیتا نہیں
زمیں کا شور فلک پر سنائی دیتا نہیں
عجب تلاش کے سرکل میں گھومتے ہوئے لوگ
کسی کے پاؤں کو رستہ سجھائی دیتا نہیں
ہمیں جلا کہ ضرورت ہے روشنی کی تجھے
انھیں دکھا کہ جنھیں کچھ دکھائی دیتا نہیں
زمیں کی سالگرہ پر میں خاک بانٹتا ہوں
کسی کو ورنہ میں اپنی کمائی دیتا نہیں
سمے نچوڑ کہ دو چار پل ملیں تجھ سے
گھڑی کا ہجر تو اتنی رسائی دیتا نہیں
پرانی جڑ سے نکلتا ہے شاخِ نو کا وجود
تبھی تو میر کا حلقہ رہائی دیتا نہیں
یہ کس وصال کی زنجیر سے بندھی ہوئی ہے
ہماری ناؤ کو دریا رہائی دیتا نہیں
منیر جعفری
